Monday, 3 March 2014

ام ابیھا کے معنی میں مختصر وضاحت

 مرجع تقلید آیت اللہ العظمی مظاہری سے ایک گفتگو 

ترجمہ: جعفری

حضرت زہرا(س) کے اسماء و القاب کے سلسلے میں پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ منجملہ آپ کے لیے جو کنیت بیان ہوئی ہے وہ ام ابیہا(۱) ہے۔یعنی فاطمہ زہرا (س) پیغمبر اکرم (ص) کی ماں ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی اس کنیت کے تین معنی ہیں۔ اور تینوں معنی نہایت اہم ہیں۔ اگر ان پر توجہ کی جائے تو اس کے علاوہ کہ آپ کی نسبت ہمارا عقیدہ مزید مستحکم ہو گا آپ کی زندگی کو بہتر انداز میں اپنے لیے اسوہ اور نمونہ عمل قرار دیں سکیں گے۔

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغبر اکرم(ص) کی تخلیق کی علت غائی

پہلے معنی یہ ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پیغبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے علت غائی ہیں معروف و مشہور روایت لَوْلاکَ لما خَلَقْتُ الأفْلاکَ و لَوْلا عَلیٌ لَمْا خَلَقتُکَ و لَولا فاطِمَةُ لَمْا خَلَقْتُکُما (۲) کا پہلا حصہ یعنی لولاک لما خلت الافلاک سند کے اعتبار سے معتبر ہے اور شیعہ و سنی کتابوں میں متواتر طریقہ سے نقل ہوا ہے (۳) کہ پروردگار عالم نے فرمایا: یا رسول اللہ کائنات کے وجود کی علت غائی آپ ہیں اور آپ نہ ہوتے تو میں کائنات کو خلق نہ کرتا۔
اس روایت کا دوسرا حصہ یعنی عبارت ’’و لَوْلا عَلیٌ لَمْا خَلَقتُکَ و لَولا فاطِمَةُ لَمْا خَلَقْتُکُما‘‘ اگر چہ سند کے لحاظ سے پہلے حصے کے برابر نہیں ہے لیکن پھر بھی متعدد شیعہ و سنی کتابوں میں یہ فقرہ بیان ہوا ہے۔ اگر امیر المومنین علی(ع) نہ ہوتے تو خدا اپنے حبیب کو بھی خلق نہ کرتا یعنی پیغمبر اکرم(ص) کی علت غائی علی ہیں اور اگر فاطمہ نہ ہوتیں تو پیغبر اور علی دونوں نہ ہوتے۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر فاطمہ نہ ہوتیں تو کائنات نہ ہوتی یعنی فاطمہ زہرا(س) در حقیقت کائنات کی وجہ تخلیق ہیں۔ خداوند عالم نے حضرت زہرا (س) کے صدقے میں کائنات کو خلق کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پروردگار عالم کے یہاں حضرت زہرا کا مقام و مرتبہ اتنا بلند ہے کہ ماسوائے خدا ہر چیز ان کے صدقے میں ہست و بود ہوئی ہے۔
اور شاید اس بات کے معنی بھی یہی ہوں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت زہرا (س) کو ام ابیہا کہا ہے وہ اسی بات کی طرف اشارہ ہو کہ پیغمبر اکرم (ص) یہ بتانا چاہتے ہوں کہ اے فاطمہ تم میری تخلیق اور ہستی کا سبب ہو۔ لہذا اس معنی میں حضرت زہرا پیغمبر اکرم(ص) اور ان کے دین اسلام کی علت غائی ہوں گی۔
بزرگان اور اہل معرفت اس معنی پر تاکید کرتے ہیں اور اسی وجہ سے روایت «لَوْلاکَ لما خَلَقْتُ الأفْلاکَ و لَوْلا عَلیٌ لَمْا خَلَقتُکَ و لَولا فاطِمَةُ لَمْا خَلَقْتُکُما» کے لیے خاص اہمیت کے قائل ہیں۔

شخصیت پیغمبر اکرم (ص) حضرت زہرا (س) کی مرہون منت

ام ابیہا کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی شخصیت حضرت زہرا (س) سے وابستہ ہے۔ جیسا کہ خود پیغمبر اکرم (ص) اپنی ماں حضرت آمنہ کی مرہون منت ہیں کہ انہوں نے جزء العلہ ہونے کے اعتبار سے آپ کو وجود بخشا ہے حضرت زہرا (س) کی والدہ حضرت خدیجہ (س) کا بھی یہی مقام ہے یعنی انہوں نے بھی اپنی تمام تلاش و کوشش کے ذریعے تیرہ سال اسلام کو مکہ میں پروان چڑھایا۔ اگر حضرت خدیجہ کی دولت و ثروت نہ ہوتی تو مکہ کی بنجر زمین میں آندھیوں اور طوفانوں سے بچ کر نہال اسلام کا تنومند ہونا ناممکن ہو جاتا۔ اگر پیغمبر اکرم(ص) شعب ابوطالب میں چالیس افراد کے ساتھ مشکلات کو متحمل کر پائے تو یہ حضرت خدیجہ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا۔
حضرت خدیجہ کی پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت کے سلسلے میں گفتگو طولانی ہے ہم صرف یہاں پر ایک جملہ میں ان تمام قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
حضرت خدیجہ (س) نے پیغمبر اکرم (ص) سے شادی کے بعد پہلی رات ہی اپنے تمام مال و منال کی سندوں کر پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں پیش کردیا اور فرمایا: میں آپ کی خدمتگذار ہوں اور یہ سارا مال آپ کا ہے۔(۴)
شادی کی پہلی رات میں حضرت خدیجہ کی بات صرف ایک تعارف اور تکلف نہیں تھا بلکہ انہوں نے عملا اس چیز کو ثابت کر دیا اور اس طریقہ سے اپنی بات پر سچائی کا ثبوت دیا کہ دنیا سے جاتے وقت اپنے پاس کفن تک بھی نہ تھا۔ اور اپنے شوہر پیغمبر گرامی اسلام کو یہ بات کہتے ہوئے بھی شرما رہی تھیں کہ مجھے کفن دے دینا۔ لہذا انہوں نے اپنی بیٹی جناب زہرا (س) کے ذریعہ پیغمبر اسلام (ص) سے یہ وصیت کرتے ہوئے کہلوایا کہ وہ عبا اور چادر جسے نزول وحی کے وقت آپ اپنے شانوں پر ڈالتے ہیں اسے میرا کفن قرار دیں۔ جناب خدیجہ (س) کی درخواست دو اعتبار سے توجہ کی طالب ہے ایک یہ کہ یہ وحی کی عبا ہے اور متبرک ہے اور دوسرے یہ کہ آپ نے اپنا سارا مال راہ اسلام میں خرچ کر دیا تھا لہذا آپ کے پاس کفن تک کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔
حضرت رسول اسلام (ص) نے بھی وصیت کے مطابق عمل کیا اور اسی عبا کو اپنی بہترین شریک حیات جناب خدیجہ کے لیے کفن قرار دیا۔ جناب خدیجہ کو کفن دیتے وقت جناب جبرئیل (ع) بھی جنت سے کفن لے کر نازل ہو گئے۔ رسول خدا (ص) اپنی عبا اور بہشتی کفن دونوں سے جناب خدیجہ کو کفن دیا اور دفن کر دیا(۵)۔
خود حضرت زہرا (س) نے مدینہ میں دس سال کے عرصہ میں حضرت علی علیہ السلام کی مدد سے پیغمبر اکرم (ص) کی ہمیشہ نصرت کی۔ اگر حضرت زہرا اور حضرت علی علیہما السلام نہ ہوتے تو پیغمبر اکرم کے لیے مدینہ میں موجود مشکلات کو سر کرنا بھی بہت ناگوار ہو جاتا۔

فدک، میراث حضرت زہرا(س)

پیغمبر اکرم (ص) نے مدینہ کے دس سالوں میں ۸۴ جنگیں لڑیں۔ اور بالاتفاق شیعہ اور شنی جس شخص نے ان تمام جنگوں میں فتح حاصل کی وہ تنہا ذات حضرت علی علیہ السلام کی ہے۔ اور جس نے ہر حال میں حضرت علی (ع) کی نصرت کی اور انہیں جنگوں کے لیے آمادہ کیا وہ حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی ذات ہے اور اس کے بعد فدک کا سرمایہ ہے۔
در حقیقت فدک اصل میں حضرت خدیجہ(س) کی جائداد تھی، شعب ابی طالب میں مسلمانوں کے محاصرے کے دوران یہودیوں نے اسے نہایت ارزاں قیمت کے بدلے میں اپنے قبضہ میں کیر لیا تھا۔ فتح خیبر کے بعد جب رسول اسلام (ع) نے فدک واپس لیا اور اسے اپنی ملکیت قرار دیا تو یہ آیت نازل ہوئی «وَ آتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّهُ‏...» (۶)
شیعہ و سنی علماء اس بات کے قائل ہیں کہ رسول اسلام (ص) نے فدک کو جو در حقیقت حضرت خدیجہ کا باغ تھا اسے حضرت زہرا (س) کو دے دیا۔ (۷)
حضرت زہرا (س) نے اپنی پوری زندگی اس کے سرمایہ سے استفادہ نہیں کیا بلکہ اس کا سارا سرمایہ آپ بنی ہاشم کے فقرا اور مساکین میں تقسیم کیا کرتی تھیں۔(۸) آپ نے خود نہایت سادہ زندگی گزاری، یہاں تک کہ سورہ ھل اتی کی شکل میں اس کی سند مل گئی۔ آپ کی زندگی بہت سادہ تھی جبکہ آپ فدک کے سرمایے سے اپنی زندگی کو بہتر بھی بنا سکتی تھیں۔ لیکن جب آپ کی والدہ جناب خدیجہ نے اپنا سارا مال و منال راہ اسلام میں خرچ کر دیا تو کیسے آپ فدک کے سرمایہ کو اپنی ذاتی زندگی میں استعمال کر سکتی تھیں۔ لہذا آپ اس بات کی معتقد تھیں کہ فدک کا مال اسلام کی راہ میں خرچ ہونا چاہیے۔ اس بناپر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح مکہ میں تیرہ سال اسلام کو جناب خدیجہ سے اپنے مال سے پروان چڑھایا اسی طرح مدینہ کے دس سال میں حضرت زہرا (س) نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ام ابیہا کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی شخصیت اور دین اسلام کی شخصیت حضرت زہرا(س) سے وابستہ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مکہ میں اسلام حضرت خدیجہ (س) سے وابستہ تھا اور مدینہ میں حضرت زہرا(س) سے تو غلط نہیں ہو گا۔ اگر پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت زہرا (س) کو ام ابیہا کہا ہے تو شاید اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ آپ کی شخصیت حضرت زہرا(س) کے وجود پر موقوف ہے۔ دین اسلام اور قرآن کی بقا حضرت زہرا (س) پر موقوف ہے۔

حضرت زہرا (س) کا مخصوص احترام

ام ابیہا کے تیسرے معنی حضرت فاطمہ زہرا (س) کا رسول گرامی اسلام (ص) کی جانب سے مخصوص احترام ہے۔ یعنی حضرت زہرا(س) کا احترام کرنا رسول اسلام (ص) اور ائمہ اطہار پر ضروری ہے۔
پیغمبر اکرم (ص) حضرت زہرا (س) کے لیے فوق العادہ احترام کے قائل تھے روایات میں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہر روز حضرت زہرا کے گھر جاتے تھے۔ جس طرح مستحب ہے کہ مسجد میں دو رکعت نماز ادا کی جائے رسول خدا (ص) جناب زہرا (س) کے گھر دو رکعت نماز ادا کرتے تھے کبھی آپ کے ہاتھ کا بوسہ لیتے تھے اور کبھی پیشانی کا۔ اور فرماتے تھے: میں زہرا (س) سے جنت کی خوشبو سونگھتا ہوں۔ اور ایک خاص ادب کے ساتھ حضرت زہرا (س) کے سامنے بیٹھتے تھے(۹) اگر حضرت زہرا(س) پیغمبر اکرم (ص) کے پاس آتی تھی تو پیغمبر اکرم اپنے پورے وجود کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔ اور ان سے گفتگو کرتے تھے اور اگر پیغمبر اکرم (ع) جناب زہرا (س) کے گھر میں آتے تھے تو زہرا (س) آپ کا ایسے ہی احترام کرتی تھیں۔ (۱۰) میں نے اس جملہ کو کہیں نہیں پڑھا لیکن ایک قابل اعتماد بزرگ عالم دین کی زبان سے سنا ہے: جب پیغمبر اکرم (ص) جناب زہرا(س) کے گھر سے باہر جاتے تھے تو پچھلے پیر باہر نکلتے تھے یعنی جناب زہرا کی طرف پیٹھ نہیں کرتے تھے۔ خلاصہ کلام یہ کہ پیغمبر اکرم (ص) جناب زہرا کی نسبت ایک مخصوص طرح کے احترام کے قائل تھے۔

تسبیح حضرت زہرا(س)

تسبیح حضرت زہرا (س) کا واقعہ بھی بہت عجیب ہے۔ حضرت زہرا(س) کو گھر کے کاموں اور چار بچوں کی دیکھ بھال میں ہاتھ بٹانے کے لیے ایک خادمہ کی ضرورت تھی لہذا حضرت علی علیہ السلام کی اجازت سے رسول خدا کے پاس گئیں پیغمبر اکرم (ص) بھی جناب زہرا (س) کو منع نہیں کرنا چاہتے تھے لہذا آپ نے بجائے منع کرنے کے فرمایا: «یا فَاطِمَةُ أُعْطِیکِ مَا هُوَ خَیرٌ لَکِ مِنْ خَادِمٍ وَ مِنَ‏الدُّنْیابِمَا فِیهَا» (۱۱)
اے فاطمہ میں ایسی چیز تمہیں عطا کروں گا جو خادمہ اور دنیا سے زیادہ تمہارے لیے بہتر ہے۔
اس کے بعد فرمایا: نماز کے بعد، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ الحمد للہ، تنیتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھو۔ یہ عمل اللہ کے نزدیک دنیا اور مافیھا سے بہتر ہے۔ بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ اگر تسبیح کے بعد لا الہ الا اللہ (۱۲) اور استغفر اللہ (۱۳) بھی کہا جائے تو بہتر ہے لیکن تسبیح کا جزء نہیں ہے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: تسبیح حضرت زہرا (س) میرے نزدیک، ہزار رکعت نماز سے زیادہ محبوب ہے۔ (۱۴)۔ اس کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ یہ تسبیح حضرت زہرا سے وابستہ ہے۔ اس ماجرا کے بعد حضرت زہرا (س) واپس گھر امیر المومین کے پاس آئیں اور پورا واقعہ نقل کیا۔ کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ رسول خدا (س) جناب فضہ کو خادمہ کے عنوان سے لے کر جناب زہرا کے گھر تشریف لائے۔ اور انہیں جناب زہرا کو ہدیہ دے کر فرمایا: بیٹا یہ عورت بھی آپ کی طرح ہے آرام کو دوست رکھتی ہے اور زیادہ کام کرنے سے تھک جاتی ہے۔ لہذا اس کے ساتھ کاموں کو تقسیم کر لینا۔ ایک دن یہ کام کرے اور ایک دن آپ۔(۱۵)۔
پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومنین علی (ع) نے کبھی بھی حضرت زہرا کے سامنے ’’نہ‘‘نہیں کہا۔ اور آپ کے لیے ایک خاص اہمیت کے قائل تھے اور ائمہ معصومین (ع) بھی اسی وجہ سے ایک آپ کی نسبت مخصوص احترام کرتے ہیں۔

حضرت زہرا (س) کے حجت ہونے کے معنی

امام حسن عسکری علیہ السلام سے منسوب ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: : «نَحنُ حُجَجُ اللَّه عَلَى خَلقِه وَ جَدَّتُنَا فَاطِمَة حُجّة اللَّه عَلَینا»(۱۶) ہم ائمہ لوگوں پر اللہ کی حجتیں ہیں اور ہماری ماں فاطمہ ہمارے اوپر حجت ہیں۔
اس روایت کے اندر عجیب دقیق معنی پوشیدہ ہیں۔ خلاصہ کے طور پر عرض کروں۔ جب رجعت کا زمانہ آئے گا اور اہلبیت علیہم السلام کی عالمی حکومت ہو گی اور لاکھوں سال اہلبیت علیہم السلام روئے زمین پر حکومت کریں گے اس دوران حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی حجیت نمایاں ہو گی۔ یہ جو امام عسکری علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ ہماری ماں زہرا ہمارے اوپر حجت ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں عالم وجود کی ملکہ حضرت زہرا (س) ہوں گی۔ البتہ پیغمبر اکرم (ص)، امیر المومنین (ع) اور دیگر ائمہ(ع) کے زمانے میں بھی جناب زہرا (س) حجت خدا رہی ہیں۔ لیکن امام زمانہ (ع) کے دور میں آپ کی حجیت آپ کے صحیفہ ’’ مصحف فاطمہ‘‘ کے ذریعہ خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے اور اسی طرح رجعت کے زمانے میں۔
البتہ اس سلسلے میں کہ مصحف فاطمہ (س) کی حقیقت کیا ہے ہماری معلومات بہت کم ہیں۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد جبرئیل امین جناب فاطمہ زہرا (س) پر نازل ہوتے تھے اور کچھ اسرار و رموز کو انہیں تعلیم کرتے تھے اور امیر المومنین علی علیہ السلام ان کی کتابت کرتے تھے (۱۷) یہ اسرار و رموز مصحف فاطمہ(س) کے نام سے معروف ہو گئے اور ائمہ معصومین (ع) کے علاوہ کسی کو مصحف فاطمہ(س) تک رسائی نہیں ہے اور ہمارے زمانہ میں یہ صحیفہ امام مھدی ارواحنا فداہ کے پاس ہے۔ (۱۸) لیکن یہ کہ اس کی حقیقت کیا ہے اس میں کیا لکھا ہوا ہے جو قرآن میں نہیں ہے سوائے ائمہ کے کسی کو خبر نہیں ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ رجعت اور عالمی اسلامی حکومت کے زمانے میں جو لاکھوں سال بلکہ کروڑوں سال ہو گی اس میں بنیادی قانون مصحف فاطمہ (س) ہو گا لہذا اس اعتبار سے بھی حضرت زہرا ائمہ معصومین (ع) پر حجت ہیں اور کائنات کی ملکہ ہیں اور ام ابیہا ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں۔

حوالہ جات

1. ر.ک: مقاتل الطالبین، ص 29؛‌بحارالأنوار، ج 43، ص 19 و ...
2. الجنّة العاصمه، ص 148 ، مجمع النورین، ص 14
3. بحارالانوار، ج 15، ص 28؛ ج‌16، ص‌406؛ ینابیع المودة، ج 1، ص 24؛ کشف الخفاء، ج 2، ص 164؛
4. الخرائج و الجرائح، ج‏1، ص 140-141.
5. شجرۀ طوبی، ج 2، ص 234.
6. اسراء / 26.                                        
7. بحارالأنوار، ج 21، ص 22؛ الدرّالمنثور، ج 4، ص 177 و ...
8. ر.ک: الکافی، ج 7، صص 48- 49؛ کشف المحجّة، ص 182و...
9. بحارالأنوار، ج 43، ص 25؛ المستدرک علی الصحیحین، ج 3، ص 154و...
10. اعلام الوری، ص 150و ...
11. بحارالأنوار، ج 82، ص 336.
12. الکافی، ج 3، ص 343.
13. ثواب الاعمال، ص 163.
14. الکافی، ج 3، ص 343.
15. الخرائج و الجرائح، ج ‏2، 530؛ اندیشه‌های ناب، ص 91.
16. اطیب البیان، ج 13، ص 225.
17. الکافی، ج 1، ص458.
18. ر.ک: بصائر الدرجات، صص 158-153؛ من لایحضره الفقیه، ج 4، ص 419

شفاعت کی وضاحت کیجئے؟

شفاعت " شفع" کے مادے سے "جفت " کے معنی میں ھے۔ یھ معنی کسی چیز کو مشابھه چیز سے شامل ھونے سے لیا گیا ھے ، اس کے مد مقابل " وتر" ھے، جو "تنھا" اور "ایک" کے معنی دیتا ھے۔ اس کے بعد کسی طاقتور شخص کی مدد کرنے کی غرض سے کسی ضعیف کے ساتھه منسلک ھونے میں استعمال ھوتا ھے۔
عرف میں شفاعت کے معنی یھ هے کھ " شفیع" اپنے منصب سے استفاده کرکے صاحب اقتدارکی نظر کو اپنے ماتحتوں کے بارے میں تبدیل کرے ، اور یھ کام کبھی اثر و رسوخ سے یا کبھی اس کے خوف سے یا کبھی جذبات کے ذریعے ، یا مجرم کے بارے میں صاحب اقتدار کی نظر کو تبدیل کرنے کے ذریعھ ۔۔۔۔ انجام پاتا ھے۔ لیکن ان سب موارد میں مجرم شخص کے فکر اور سلوک میں کسی طرح کی تبدیلی پیدا نھیں ھوتی، بلکھ ھر طرح کی تبدیلی اس فرد میں رونما ھوتی ھے جس کے پاس شفاعت ھوتی ھے۔
اس قسم کی شفاعت اسلامی اور قرآنی نقطھ نظر سے معنی نھیں رکھتی ، کیونکھ نھ ھی خدا کوئی غلطی کرسکتا ھے جس سے اس کی نظر تبدیل کی جائے ( نعوذ باللھ) اور اس کی نظر صحیح جانب موڑدی جائے ، اور نھ ھی وه جذبات رکھتا ھے جس طرح انسان کے اندر جذبات موجود ھیں تا کھ اس کے جذبات کو متحرک کیا جائے۔ وه کسی کے اثر و رسوخ میں نھیں آتا اور نھ ھی کسی سے ڈرتا ھے اور وه کوئی خلاف عدل پر مبنی فیصلھ نھیں کرتا   کھ اس کی اصلاح کی جائے۔
لیکن شفاعت کے جو معنی قرآنی آیات اور اسلامی ثقافت( روایات) میں موجود ھیں، وه یھ ھے کھ شفاعت پانے والے افرد میں تبدیلی اور تغیر پیدا ھو ، یعنی شفاعت پانے والا ایسے اسباب فراھم کرے جن کے ذریعے وه اپنی نامطلوب اور سزا پانے والی حالت سے نکل کر شفیع کے ساتھه رابطھ مستحکم کرے اور عفو اور درگذر کا مستحق قرار پائے۔ اس طرح کی شفاعت پر ایمان لانا حقیقت میں تربیت پانے کی اعلی درسگاه اور گناھگار افراد کی اصلاح کا ذریعھ ھے۔ کیوں کھ جو لوگ گناھوں کے مرتکب ھوتے ھیں،اگر ایک طرف اپنے ضمیر کے عذاب میں گرفتار ھوجائین اور دوسری جانب خدا کی رحمت اور بخشش سے ناامید ھوجائیں اور اپنے اوپر ھدایت پانے کے سب راستوں کو بند پائیں ، تو عملی طورپر اپنے اعمال میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نھیں لائیں گے۔ کیونکھ اس کام کیلئے وه کسی بھی طرح کا فائده تصور نھیں کرسکتے ھیں بلکھ اس کے بدلے کبھی ممکن ھے وه زیاده ھی سرکش اور باغی ھوکر، اپنے گناھوں کی ذمھ داری اپنے سماج کے اوپر ڈال دیں اور یھ کھیں کھ ھمارے سماج کے حالات ھی کچھه ایسے تھے جس کی وجھ سے ھم اس حد تک گر گئے۔ اور اس طرح وه اپنے گناھوں میں اضافھ کرکے سماج سے انتقام لیں گے۔
لیکن شفاعت پر ایمان، ان کے اوپر امیدوں کے دروازوں کو کھولتا ھے ، اور انھیں اپنے اوپر کنٹرول کرنے اور اپنی گزشتھ غلطیوں کا ازالھ کرنے کا شوق دیتا ھے۔ اور یھ امر خطاکار افراد کی اصلاح کرنے اور سماج میں امن و سلامتی برقرار کرنے میں معاون ثابت ھوتا ھے۔
دوسری جانب شفاعت ایک مطلق موضوع نھیں بلکھ اس کے شرائط اور قیود ھیں ، یھ شرائط گناه اور جرم ، شفاعت کرنے والے اور شفاعت پانے والے میں ھیں ۔ جو لوگ اصل شفاعت کا اعتقاد رکھتے ھیں   اور اس فرصت کو غنیمت جان کر شفاعت پانا چاھتے ھیں۔ ان کے لئے ناگزیر ھے کھ ان شرائط کو فراھم کریں اور خاص قسم کے گناھوں جیسے ظلم ، شرک وغیره جن کی وجھ سے انسان کو شفاعت نصیب نھیں ھوتی سے دوری اختیار کریں اور اپنے اعمال کو اس طرح بنائیں کھ شفاعت کرنے والوں کی عنایات میں شامل ھوں۔
یھ سب اس بات کی دلیل ھے کھ جو شفاعت قرآنی آیات میں بیان ھوئی ھے انسانوں کی تربیت اور سماج میں موجود افراد کیلئے ایک انمول خزانھ ھے کیونکھ انسانوں کی تربیت اور معاشرے کو پاک بنانا ھی انبیاء کو بھیجنے کا مقصد ھے۔ [1]
دوسرے الفاظ میں شفاعت کے وه معنی جو عام طورپر استعمال ھوتے ھیں وه یھ ھے کھ کوئی باعزت انسان کسی بزرگ سے یھ چاھے کھ مجرم کی سزا سے درگزر کرے یا کسی خدمتگار کے اجر کو زیاده کرے ، لیکن ان صورتوں میں ممکن ھے کھ شفیع کی شفاعت قبول کرنے کیلئے خاص دلائل ھوں جو کھ خداوند متعال کے بارے میں منفی ھیں۔ کیونکھ خداوند متعال کی طرف سے جن شفیعوں کو شفاعت کا اذن دیا گیا ھے، اس کی وجھ خوف اورڈر یا انکی طرف سے خدا کی نیاز مندی نھیں ھے ۔ بلکھ شفاعت ان افراد کیئے ایک راستھ ھے جن میں خدا کی ابدی رحمت حاصل کرنے کیلئے صلاحیت موجود نھیں ھے۔ اور اس راستے کو خود خداوند متعال نے قرار دیا ھے اور اس کےلئے شرائط و ضوابط بنا دیئے ھیں۔
البتھ اسلام میں کبھی یھ لفظ وسیع معنی میں بھی استعمال ھوتا ھے اور اس کے مطابق کسی دوسرے کے ذریعے انسان کو ھر طرح کا خیر پھنچنا بھی شامل ھوتا ھے اور اگر کھا جاتا ھے کھ ماں اورباپ اپنے فرزندوں یا اس کے بر عکس فرزند اپنے ماں باپ کی ، یا استاد اپنے شاگرد کی ، یا مؤذن ان لوگوں کی بھ نسبت جنھیں وه نماز کی یاد دلاتا ھے اور مسجد میں حاضر ھوتے ھیں، شفاعت کرتا ھے۔ تو حقیقت میں اس کا مطلب وھی خیر کا اثر جو اسے دنیا میں تھا قیامت کے دن شفاعت کی صورت میں ظاھر ھوگا اور اس طرح گناھگاروں کا استغفار بھی اس دنیا میں ایک طرح کی شفاعت ھے اور دوسرے لوگوں کیلئے دعا کرنا اور ان کے لئے خدا سے حاجتیں پوری کرانا بھی " شفاعت عند اللھ" کے موارد میں سے ھے ، کیوں کھ یھ سب خدا کے پاس دوسرے لوگوں کو خیر پھنچانے اور ان سے شر کو دور کرنے کے موارد میں سے ھیں۔ [2] [3]
[1] تفسیر نمونھ ، ج ۱ ص ۲۴۶ ، ۲۲۳۔
[2] آموزش عقاید ، مصباح یزدی ، ص ۴۸۲ و ۴۸۳۔
[3] مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے رجوع کریں ، تفسیر نمونھ ، ج ۲ ص ۲۶۷ ، اور ترجمھ تفسیر المیزان ، ج ۱ ص ۳۷۷، ۲۳۹۔ عنوان: قیامت مین شفاعت کا مقام ، سوال نمبر ۴۴۰۔ ( سائٹ نمبر ــــــ)

اہل بیت علیہ السلام کے پاس ماضی اور مستقبل کا علم


۱: مولا علی (ع) فرماتے ہیں : اگر قرآن مجید میں یہ آیت نہ ہوتی کہ ” اللہ جس چیز کو چاہتاہے محو کردیتاہے اور جس کو چاہتاہے باقی رکھتاہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے، تو میں تمھیں تمام گذشتہ اور آئندہ قیامت تک ہونے والے حالات سے باخبر کردیتا۔
۲:امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : اے وہ خدا جس نے ہم کو تمام ماضی اور آئندہ کا علم دیا ہے اور انبیاء کے علم کا وارث بنایاہے، ہم پر تمام گذشتہ امتوں کا سلسلہ ختم کیا ہے اور ہمیں وصایت کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔
۳: معاویہ بن وہب ! میں نے امام صادق (ع) کے دروازہ پر اجازت طلب کی اور اجازت ملنے کے بعد گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت مصلیٰ پر ہیں۔ میں تھہر گیا جب نماز تمام ہوگئی تو دیکھا کہ آپ نے مناجات شروع کردی، ” اے وہ پروردگار جس نے ہمیں مخصوص کرامت عطا فرمائی ہے اور وصیت کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور ہم سے شفاعت کا وعدہ کیاہے اور ہمیں تمام ماضی اور مستقبل کا علم عطا فرمایاہے اور لوگوں کے دلوں کو ہماری طرف جھکادیاہے، خدایا ہمیں اور ہمارے برادران ایمانی کو اور قبر حسین (ع) کے تمام زائروں کو بخش دے۔
۴: سیف تمار ! میں ایک جماعت کے ساتھ امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر تھا، آپ نے تین مرتبہ خانہ کعبہ کی قسم کھاکر فرمایا کہ اگر میں موسی ٰ (ع) اور خضر (ع) کے درمیان حاضر ہوتا تو دونوں کو بتاتا کہ میں ان سے بہتر جانتاہوں اور وہ باتیں بتاتا جو ان کے پاس نہیں تھیں، اس لئے کہ موسیٰ (ع) اور خضر کو گذشتہ کا علم دیاگیا تھا۔( انھیں مستقبل اور قیامت تک کے حالات کا علم نہیں دیا گیاتھا اور ہمیں یہ سب رسول اللہ سے وراثت میں ملا ہے۔
۵: امام صادق (ع) ! ہم اولاد رسول اس عالم میں پیدا ہوئے ہیں کہ ہمیں کتاب خدا،ابتدائے آفرینش اور قیامت تک کے حالات کا علم تھا، اور اس کتاب میں آسمان و زمین، جنت و جہنم ، ماضی و مستقبل سب کا علم موجود ہے اور ہمیں اس طرح معلوم ہے جس طرح ہاتھ کی ہتھیلی ، پروردگار کا ارشاد ہے کہ اس قرآن میں ہر شے کا بیان موجود ہے۔
۶: امام رضا (ع) ! کیا خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب کا اظہار صرف اپنے پسندیدہ بندوں پر کرتاہے اور رسول اکرم (ص) اس کے پسندیدہ بندہ تھے اور ہم سب انھیں کے وارث ہیں جن کو خدا نے اپنے غیب پر مطلع فرمایاہے اور تمام ماضی اور مستقبل کا علم دیا ہے
حوالہ جات :
۱: ( التوحید 305 /1 ، امالی صدوق (ر) ص 280 /1 الاختصاص ص 235 ، الاحتجاج 1 ص 610 بروایت اصبغ بن نباتہ، تفسیر عیاشی 2 ص 215 /59 ، قرب الاسناد 354 / 1266)۔
۲: ( بصائر الدرجات 129 / 3 بروایت معاویہ بن وہب)۔
۳: ( کافی 4 ص 582 /11 ، کامل الزیارات ص 116)۔
۴:( کافی 1 ص 260 / 1 ، بصائر الدرجات 129 /1 ، 230 / 4 ، دلائل الامامة ص 280 / 218)۔
۵: ( کافی 1 ص 61/8، بصائر الدرجات 197 /2 ، ینابیع المودة 1 /80/20 ، روایت عبدالاعلیٰ بن اعین ، تفسیر عیاشی 2 ص 266 / 65)۔
۶: ( ا لخرائج و الجرائح 1 ص 343 روایت محمد بن الفضل الہاشمی)۔

نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟


جہانِ عزمِ وفا کا پیکر
خِرد کا مرکز، جنوں کا محور
جمالِ زھراسلام اللہ علیہا ، جلالِ حیدر
ضمیرِ انساں، نصیرِ داور
زمیں کا دل، آسماں کا یاور
دیارِ صبر و رضا کا دلبر
کمالِ ایثار کا پیمبر
شعورِ امن و سکوں کا پیکر
جبینِ انسانیت کا جھُومر
عرب کا سہرا، عجم کا زیور
حسین تصویرِ انبیاء ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین اہلِ وفا کی بستی
حسین آئینِ حق پرستی
حسین صدق و صفا کا ساقی
حسین چشمِ اَنا کی مستی
حسین پیش از عدم، تصور
حسین بعد از قیامِ ہستی
حسین نے زندگی بکھیری
فضا سے ورنہ قضا برستی
عروجِ ہفت آسمانِ عظمت
حسین کے نقشِ پا کی مستی
حسین کو خُلد میں نہ ڈھونڈو
حسین مہنگا ہے خلد سستی
حسین مقسومِ دین و ایماں
حسین مفہوم "ھَل اَتٰی" ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین نِکھرا ہُوا قلندر
حسین بھپرا ہُوا سمندر
حسین بستے دلوں سے آگے
حسین اُجڑے دلوں کے اندر
حسین سلطانِ دین و ایماں
حسین افکار کا سکندر
حسین سے آدمی کا رُتبہ!
حسین ہے آدمی کا "مَن دَر"
خدا کی بخشش ہی خیمہ زَن ہے
حسین کی سلطنت کے اندر
حسین داتا، حسین راجہ
حسین بھگوان، حسین سُندر
حسین آکاش کا رشی ہے
حسین دھرتی کی آتما ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین ، میدان کا سپاہی
حسین دشتِ اَنا کا راہی
حسین فرقِ اَجل کا بَل ہے
حسین انداز، کجکلاہی!
حسین کی گردَ پا، زمانہ!
حسین کی ٹھوکروں میں‌ شاہی
حسین معراجِ فقرِ عالم
حسین ، رمزِ جہاں پناہی
حسین ایقان کا مُنارہ
حسین اوہام کی تباہی
ضمیر انصاف کی لغت میں
حسین معیارِ بےگناہی
بنامِ جبر و غرورِ شاہی
حسین غیرت کا فیصلہ
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین فقرو اَنا کا غازی
حسین جنگاہ میں‌ نمازی
حسین حسنِ نیاز مندی
حسین اعجازِ بے نیازی
حسین آغازِ جاں نثاری
حسین انجامِ جاں گدازی
حسین توقیر کار بندی
حسین تعبیر کار سازی
حسین معجز نمائے دوراں
حسین حق کی فسوں طرازی
حسین ہارا تو یوں کہ جیسے
حسین نے جیت لی ہو بازی
حسین سارے جہاں کا وارث
حسین کہنے کو بے نوا ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
حسین اک دلنشیں کہانی
حسین دستورِ حق کا بانی
حسین عباس کا سراپا
حسین اکبر کی نوجوانی
حسین کردارِ اہلِ ایماں
حسین معیارِ زندگانی
حسین قاسم کی کم نمائی
حسین اصغر کی بے زبانی
حسین سجاد کی خموشی
حسین باقر کی نوحہ خوانی
حسین دجلہ کا خشک ساحل
حسین صحرا کی بیکرانی
حسین زینب سلام اللہ علیہا کی کسمپرسی
حسین کلثوم سلام اللہ علیہا کی ردا ہے
نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟
کلام: شہید محسن نقوی

حسین علیہ السلام وارث حق


انسانی نجات کی کشتی کو کسی سمندر کی ضرورت نہیں، وہ امام حسین علیہ السلام کی یاد میں بہائے گئے آنسووں کے قطروں پر حرکت کرے گی، وہ اشک جو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلتے ہیں وہ دل و جان کو پاک کر کے خداوند عالم کے حضور پہنچ جاتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں ایسے واقعات کی تعداد شاید انگلیوں پر گنی جا سکے جسکے بارے میں ہر مکتب، مسلک، مذھب اور دین کے دانشوروں نے اپنے اپنے انداز فکر کے مطابق لکھا ہو، ان گنے چنے واقعات میں کربلا اور قیام امام حسین علیہ السلام ایک ایسی حقیقت ہے جس پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔
قیام امام حسین علیہ السلام کے اھداف سے لے کر انسانیت کی ذمہ داری تک کے موضوعات پر اہل فکر و نظر نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس عظِم واقعہ میں شریک امام حسین علیہ السلام اور انکے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ واقعہ کربلا کو سمجھنے اور اسکے حقیقی اھداف تک رسائی کیلئے کچھ مقدمات اور ذہنی آمادگی ضروری ہے۔ کربلا کے واقعات کیسے ہوئے اس پر بہت لکھا اور پڑھا گیا لیکن یہ سانحہ کیوں ہوا، اسکے بارے میں جو آگہی، آمادگی، دینی غیرت و حمیت اور دین شناسی چاہئے اسکا فقدان اس عظیم کام کے راہ میں حائل ہوتا رہا۔
واقعہ ” واقعہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی لازوال قربانی نے انسانی زندگی کے مفاہیم کو نئے معانی بلکہ اگر یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کہ حقیقی مفہوم عطا کر دیا۔ “ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی لازوال قربانی نے انسانی زندگی کے مفاہیم کو نئے معانی بلکہ اگر یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کہ حقیقی مفہوم عطا کر دیا۔ امام حسین علیہ السلام نے زندگی و حیات، موت و شہادت، دنیا و آخرت، عزت و شرافت، ذلت و عظمت، آزادی و اسیری، شکست و فتح، طاقت و قدرت، سعادت و سیادت اور حق و باطل کے مفاہیم کو حقیقی معانی عطا کئے اور اپنے عمل و کردار سے ان کو تاریخ میں ہمیشہ کیلئے ثبت کر دیا۔ تاریخ میں انسانیت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ مذکورہ مفاہیم کو سطحی اور بعض اوقات بالعکس سمجھنا ہے۔
زندگی و حیات کیا ہے؟، امام حسین علیہ السلام نے سخت ترین حالات میں بھی یہ کہ کر سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ظلم اور ظالموں کے ساتھ زندگی ننگ و عار ہے۔ یعنی زندگی کا حقیقی مفہوم عزت و شرافت کے ساتھ آزاد رہنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام اس ظاہری زندگی کو موت سے تعبیر کرتے ہیں جو ظلم کی حمایت اور ظالموں کے خلاف قیام سے عاری ہو۔ امام حسین علیہ السلام عزت و منزلت کو ظاہری اقتدار اور دنیوی طاقت میں محدود نہیں سمجھتے بلکہ وہ تلوار پر خون کی کامیابی اور آزادی و حریت کو عزت و منزلت سمجھتے ہیں۔
آپ کے ہاں شکست و فتح کا تصور بھی یکسر مختلف ہے۔ آپ انسانوں کے لشکروں اور فوجی ساز و سامان کے ذریعے دشمن کے بدن کو ختم کر ” امام حسین علیہ السلام نے سخت ترین حالات میں بھی یہ کہ کر سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ظلم اور ظالموں کے ساتھ زندگی ننگ و عار ہے۔ “ کے فتح حاصل کرنے کو کامیابی نہیں سمجھتے بلکہ آپ قلب و ذہن کو شکست دے کر اور ان میں موجود باطل نظریات کو ختم کر کے ضمیر اور وجدان کی بیداری کو فتح اور کامیابی سمجھتے ہیں۔
آپ کے ہاں آزادی اور اسیری کا مطلب انسانی بدن کی آزادی یا اسکا قید و بند میں ہونا نہیں ہے بلکہ آپ قلب و نظر کی آزادی اور حریت فکر کو حقیقی آزادی قرار دیتے ہیں جبکہ ظاہری طور پر آزاد ہونے کے باوجود فکری اور نظریاتی طور پر خودمختار نہ ہونے کو آزادی نہیں بلکہ اسیری سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ نے کربلا کے میدان میں فتح و شکست اور عزت و شرافت کے جو معیار مقرر کئے ہیں اور اسکے جو حقیقی مظاہر سامنے لائے ہیں اس سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں یزید اور یزیدیت کو ایسی شکست فاش دی کہ سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود آج بھی کوئی اس ظاہری فاتح لشکر کے ساتھ شامل ہونے کو تیار نہیں جبکہ دوسری جانب آج بھی ہر باضمیر انسان "یا لیتنا کنا معکم فنفوز فوزاً عظیماً" کا نعرہ بلند کر رہا ہے اور اس ظاہری شکست خوردہ لشکر میں شامل ہو کر عظیم کامیابی پر فائز ہونے کیلئے بے چین ہے۔
کربلا کے لق و دق صحرا میں حسینی لشکر کے تمام افراد کی شہادت اور اہل خانہ کی اسیری آج بھی کیوں نمونہ عمل بنی ہوئی ہے؟، وہ کونسا عنصر ہے جو اس واقعہ کو ہمیشہ ” آپ کے ہاں آزادی اور اسیری کا مطلب انسانی بدن کی آزادی یا اسکا قید و بند میں ہونا نہیں ہے بلکہ آپ قلب و نظر کی آزادی اور حریت فکر کو حقیقی آزادی قرار دیتے ہیں۔ “ کیلئے ایک آئیڈیل اور مثالی بنا گیا ہے؟، اس سانحے میں ایسے کونسے عوامل تھے جو اسے ہر آنے والے زمانے میں روشن سے روشن تر کر رہے ہیں؟۔
تاریخ میں ایسی ہزاروں بلکہ لاکھوں جنگیں ہوں گی جس میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ کربلا میں صرف 72 افراد کی شہادت ہوئی۔ ان 72 افراد کی شہادت میں ایسا کونسا عامل پوشیدہ ہے کہ تاریخ کا ہر باضمیر انسان ان افراد کے ساتھ شامل ہونے کو اپنے لئے باعث فضیلت سمجھتا ہے اور ببانگ دہل یہ کہتا نظر آتا ہے:

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ع
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے انسانی اقدار کی حفاظت کی جنگ لڑی ہو، آپ نے انسانی حیثیت و مقام انسانی کرامت و شرافت اور انسانیت کو ظلم و ستم سے نجات دلانے کیلئے کربلا کا معرکہ لڑا۔ آپ نے مظلوم کی حمایت اور ظلم کے خلاف قیام کر کے انسانیت کو ایک ایسے راستے کی نشاندھی کر دی جس میں شکست کا تصور ہی نہیں ہے۔ آپ خود تو درجہ معصومیت پر فائز ہیں لیکن آپکے جانثار ساتھی بھی ایمان کے عروج، عشق خدا میں سرشار، دینی ذمہ داری کو صدق دل سے ادا کرنے والے اور لقاء خدا کیلئے بے تاب و بے چین تھے۔ ان 72 کا انتخاب بھی اپنے اندر ایک عجیب داستان لئے ہوئے ہے۔ شب عاشور کے واقعات اور ان جانثار ساتھیوں کا تجدید عہد ایک ایسی انمٹ ” آپ نے مظلوم کی حمایت اور ظلم کے خلاف قیام کر کے انسانیت کو ایک ایسے راستے کی نشاندھی کر دی جس میں شکست کا تصور ہی نہیں ہے۔ “ داستان اور حقیقت ہے کہ اہل عشق و معرفت اصحاب امام حسین علیہ السلام کے جملوں کو اپنے لئے راہ ہدایت قرار دیتے رہیں گے۔ بجھے چراغ پہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے جو بیعت لی، تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ حسینی لشکر میں شامل ایک سپاہی کی ماں کا دشمن کی طرف سے پھینکے گئے اسکے بیٹے کا سر واپس دشمن کی طرف اچھالنا اور یہ کہنا کہ ہم راہ خدا میں دی گئی چیز واپس نہیں لیتے، ایک معمولی سی مثال ہے جو اس لشکر میں شامل ایک شہید کی ماں کی ہے، ورنہ اس لشکر میں شامل ایک ایک فرد اور اسکے اہل خانہ نے راہ خدا میں جس انداز سے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں اسکی مثال ڈھونڈنا ناممکن ہے۔
امام حسین علیہ السلام اور آپکے باوفا اصحاب نے اس شجر تقوی و فضیلت کی آبیاری کی جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے لگایا تھا۔ انہوں نے اپنے مقدس لہو سے اس خشک ہونے والے درخت کی آبیاری کی اور اسے حیات نو بخشتے ہوئے سرزمین بشریت کو ہمیشہ کیلئے خشک سالی سے نجات دلا دی۔ کربلا میں حسینیوں کا بہایا گیا خون آب حیات تھا جس نے اسلام کو جاویدانی زندگی عطا کر کے عالم انسانیت کیلئے حق و حقیقت کی معرفت کے دروازے وا کر دیئے۔ امام حسین علیہ السلام اور آپکے ساتھیوں ” یزید باطل قوتوں یعنی قابیل، فرعون، شداد، معاویہ، ابوسفیان اور طاغوتی قوتوں کا وارث تھا جبکہ حسین علیہ السلام ہابیل، موسی، محمد ص، علی ع اور حسن ع کے وارث ہیں۔ “ نے سالکان طریقت کو ایسا راستہ دکھا دیا اور حق و حقیقت کے طلبکاروں کو ہمیشہ کیلئے اپنا مرہون احسان بنا دیا۔
شہید کی شہادت انسان کو جھنجھوڑ کر غفلت سے نجات دلاتی ہے۔ شہادت وہ نور ہے جو تاریک دلوں کو روشن، سونے والوں کو بیدار اور مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ شہادت بشریت کا آب حیات ہے اور شہید وہ خضر ہے جو سماج اور معاشرے کو آب حیات عطا کر کے اس کے ہدف کو دائمی کر دیتا ہے۔ شہادت کی اگر یہ عظمت ہے تو امام حسین علیہ السلام سیدالشھدا ہیں۔ انہوں نے اپنے دور کی یزیدیت کو اپنے مقدس خون میں غرق و نابود کر دیا۔
یزید کا نعرہ "لا خبر جاء و لا وحی نزل" یعنی "نہ کوئی فرشتہ آیا ہے اور نہ کوئی وحی" جبکہ حسین علیہ السلام کا نعرہ "ان کان دین محمد لم یستقم الا بقتلی فیا سیوف خذینی خذینی" یعنی "اگر دین محمد صلی اہ علیہ و آلہ وسلم میرے قتل کے بغیر پائدار نہیں ہو سکتا تو اے تلوارو آو مجھ پر ٹوٹ پڑو" تھا۔
یزید معاویہ اور ابوسفیان کا پیروکار تھا اور حسین علیہ السلام علی ابن ابیطالب علیہ السلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔ یزید باطل قوتوں یعنی قابیل، فرعون، شداد، معاویہ، ابوسفیان اور طاغوتی قوتوں کا وارث تھا جبکہ حسین علیہ السلام ہابیل، موسی، محمد ص، علی ع اور حسن ع کے وارث ہیں۔
دونوں نے اپنی وراثتیں آئندہ نسلوں تک بھی منتقل کی ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ہم کس کے وارث ہیں؟۔
تحریر: آر اے سید....المرسله:الطمش رضوي لشکري پوري کلکته
اہلبیت فاونڈیشن

ان کان دین محمد لم یستقم الا بقتلی

Az Qalam
أبو صلاح الجعفري


مصایب امام حسین علیہ السلام پر عربی زبان کے مرثیوں میں سے ایک معروف مرثیہ جسکا ایک بند ( ان کان دین محمد لم یستقم الا بقتلی ) بہت سے ذاکرین و خطباء امام علیہ السلام سے منسوب کرتے ہینجبکہ یہ معروف عرب شاعر " محسن ابو الحب" کا لکہا ہوا ہے جو ( الکبیر) کے نام سے معروف تہے
اللہ ان کو غریق رحمت کرے
ہم اج بفضل خدا کربلا سے واپسی پر توفیق الہی کے سہارے اسکا ترجمہ اپ کی خدمت مین پیش کرنے کا شرف حاصل کررہے ہین
اور اسکا صلہ کریم ابن کریم سخی و جواد امام زمان عجل اللہ فرجہ وصلوات اللہ علیہ سے چاہتے ہین.
ملاحظہ فرماییے

1- إن كنت مشفقة علي دعيني .... ما زال لومُك في الهوى يُغريني( اے محبت !
اگر تم میری حالت پر ترس کہانا چاہتی ہو تو مجہے تنہائی میں ہی چہوڑ دوکیونکہ عشق مین مبتلاء ہونے پر ملامت نے مجہے تاحال خوش فہمی مین مبتلا کر رکہا ہے)
2- ألبستــه ثوب الوقار تجملاً .... كي لا ترى بي حالة المجنون( مین نے زینت و خوبصورتی کی خاطر اسے وقار کا لباس پہنا دیا ہے .تاکہ تو میرے جنون کا حال دیکہ نہ سکے )
3- إن جــــن خل العامــرية يافعاً .... فلقد جننت ولم يكن تكويني(اگر قبیلہ بنی عامر کا جوان تیری محبت میں پاگل ہوجایے تو کویی عجب نہیں میرا جنون بہی مجہے کہیں رہنے دینے والا نہیں ہے )4- البرق أنفاسي إذا هي صعدت .... والغيث دمعي والرعود حنيني( میرے جنون کآ حآَل یہ ہے کہ میری سانسیں بجلی کی مانند چڑہ رہی ہیں اور انسو بارش کیطرح برس رہے ہین اور اہ گرج کی مانند نکل رہی ہے )5- قالوا التجلد قلت ما هو مذهبي .... قالوا التوجد قلت هذا ديني( کہنے لگے کہ اس پر خوب کوڑے برساو تو مین نے ہوچہا کہ میرا قصور ؟ تو کہنے لگے یہی ہمارا دین ہے )
6- لا في سعاد ولا رباب وإنما .... هو في البقايا من بني ياسين( میری رغبت نہ تو چنگ و رباب مین ہے اور نہ سوز و سر سے مجہے کوئی کام ہےبلکہ میرا دل تو صرف اور صرف ال یاسین صلوات اللہ علیہم کی طرف متوجہ و مایل ہے )7- لاقى الحسين بك المنون وإنني .... لاقيت فيك عن الحسين منوني( حسین.ع نے تو تمہارے ہاتہوں شہادت کی موت کو پالیا لیکن مین نے حسین.ع کی محبت مین تمہارے ہاتہوں موت کو گلے لگا لیا ہے )8- يا بيضة الإسلام أنت حرية .... بعد الحسين بصفقـــة المغبون( اے اسلام اور اس کی اساس و بنیاد !
تو بلاشبہ حسین.ع. کی قربانی کے بعد ازاد ہے کیونکہ اس قربانی کے بعد اب کویی تجہے قید نہین کرسکتا )
9- أعطى الذي ملكت يداه إلهه .... حتى الجنين فـــداه كل جنين( جو بہی اللہ عزوجل نے انہین عطا کردیا تہا ان کو انہوں نے اللہ کی ہی راہ مین قربان کردیا
یہاں تک کہ وہ بچہ بہی جس پر دنیا کے سارے بچے قربان ہوجایین )10- في يوم ألقى للمهالك نفسه. ... كيما تكـــــــون وقاية للدين( اس دن جب سب موت کو گلے لگا رہے تہے انہون نے بہی اپنے نفس کی قربانی دیدی جب انہوں نے یہ دیکہا کہ دین کی سلامتی کا دارو مدار اسی پر ہے)11- وبيوم قال لنفسه من بعدما ....أدى بها حــق المعالي بيني
( اس دن جب آپ ساری قربانیاں اس کی راہ مین اپ دے چکے تو اپ خود سے مخاطب ہوکر کہتے تہے ) 12- أعطيت ربي موثقاً لا ينقضي .... إلا بقتلي فاصعدي وذريني( کہ اے میرے رب ! تو نے مجہ سے وعدہ کیا ہے کہ میرے قتل کے بعد میرے اور میری ذریت کا( درجہ وذکر) بلند کرے گا بیشک تیرا وعدہ سچا ہے )13- إن كان دين محمد لم يستقم .... إلا بقتلي يا سيوفُ خـُذيني( پس اے تیرو اور تلوارو!
اگر دین محمد .ص. میرے قتل کے بغیر سیدہا نہیں ہوسکتا تو آو اور مجہ پر ٹوٹ پڑو )
14- هذا دمي فلترو صادية الظبى .... منه وهــذا للرماح وتيني( یہ میرا خون ہے اسے لے لو اور اس سے اپنے ان تیروں کو سیراب کرو جن سے ہرن کو شکار کیا جاتا ہے اور یہ میرا بریدہ سر ہے اسے نوک نیزہ پر بلند کرو)15- خـُذها إليك هــدية ترضى بها ... يا ربّ أنت وليها من دوني( اے پالنے والے !
میں اپنے سر کو نوک نیزہ پر تیری عظیم بارگاہ مین ہدیہ کرتا ہوں. پس تو ہی میرا مالک و مددگار ہے اسے قبول فرمالے )16- أنفقت نفسي في رضاك ولا أرا .... ني فاعلاً شيئاً وأنت معيني(میں نے اپنے اپ کو تیری رضا کی خاطر قربان کردیا ہے اور اب بہی یہ سوچتا ہوں کہ شاید تیرا حق ادا نہ کرسکا پس تو ہی میری مدد کرنے والا ہے)
17- ما كان قربان الخليل نظير ما.... قربتــــه كلا ولا ذو النون( لیکن میں نے جیسی قربانی پیش کی ہے اسکی مثال نہ تو خلیل.ع. کی قربانی میں ملتی ہے اور نہ ہی ذوالنون ( یونس.ع ) کی قربانی سے اسے تشبیہ دی جاسکتی ہے.
18- هذي رجالي في رضاك ذبائح .... ما بين منحور وبين طعين( یہ میرے باوفا لوگ ( اصحاب و اہل بیت ) ہین جو تیری رضا کی خاطر تلواروں اور نیزوں کے پہلوں اور انیوں سے ذبح و شدید زخمی کردیے گئے ہیں )
19- وإليك أشكو خالقي من عصبة .... جهلوا مقامي بعدما عرفوني( اے میرے خالق! میں اس گروہ کی تجہ سے ہی شکایت کرتا ہوں جنہوں نے میرا حق جاننے کے باوجود بہی میرے مقام کو پہچاننے سے انکار کردیا ہے )20- ميراث جدي خالص لي دونهم .... ما بالهم عن إرثه طردوني( اور مجہے میرے جد کی میراث سے محروم کرکے یہ خود بلا شرکت غیرے خود اس پر قابض ہوگئے ہیں )
21- أوصى نبيك قومــه في آلـه .... وأنا ابنه حقاً وما حفظوني( جبکہ تیرے نبی نے اپنی قوم کو اپنی آل کے متعلق وصیت کی تہی
اور مین انکا برحق فرزند ہوں لیکن میرا لحاظ نہین رکہا گیا )22- هذا وقد كنت الرقيب عليه م.... يؤذيك ما من فعلهم يؤذيني( یہ سب تیری نگاہوں کے سامنے ہے اور تو بہتر جانتا ہے کہ ان لوگوں نے مجہے کتنی تکلیفیں اور اذیتیں دی ہیں )
23- هـــــذي أمانة أحمد أديتها .... فاشهد علي بها وأنت أميني( یہ دین جو احمد .ص. کی امانت تہی مین نے اس امانت کو بحفاظت ادا کردیا ہے
پس تو اس پر گواہ رہ. کہ اب تو ہی میرا امین ہے )
24- غضب الإله لعقر ناقة صالح .... حتى أذاقهم عــــذاب الهون( اللہ ان سے غضبناک ہوا جنہوں نے ناقہ صالح .ع. کی کونچیں کاٹ ڈالیں پس اس نے انہیں انکی اس حرکت پر ذلت بہرے عذاب میں مبتلاء کردیا )
25- وابن النبي رضيعه في حجره .... رضع السهام بنحره المطعون( جبکہ فرزند رسول.ص. کے شیر خوار کو ان کی گود مین ہی گلے پر تیر چلاکر نحر کردیا گیا( یقینا اللہ کے نزدیک ناقہ صالح .ع سے بڑہکر ال احمد کی قدر ہے اور انکا قتل ناقہ صالح .ع. کے قتل سے سنگین ترین ہے )انا للہ وانا الیہ راجعون.الا لعنت اللہ علی الظالمینلبیک یا حسین. ع.
السلام علیک یا ابا عبد اللہ .

Hazrat e Fatima(s.a) ki shahadat per tehqeeq


بعض کتب میں یہ بیان ضرور ہوا ہے کہ حضرت عمر آگ لیکر آئے، جیسا کہ مشہور ادیب و مؤرخ ابن عبد ربه الأندلسي متوفى سن 328 ھجری نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو بھیجا کہ آپ جا کر حضرت علی اور ان کے ساتھیوں کو بیعت پر مجبور کریں اور اگر وہ انکار کریں تو آپ ان سے جنگ کرو چنانچہ حکم کی تعمیل کی خاطر حضرت عمر اپنے ساتھ آگ لیکر سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کے دراقدس پر آئے ۔ ملاحظہ ہو۔
عليّ، والعباس، والزبير، وسعد بن عبادة، فأما علي والعباس والزبير فقعدوا في بيت فاطمة حتى بعث إليهم أبو بكر عمر بن الخطاب ليخرجوا من بيت فاطمة، وقال له: إن أبوا فقاتلهم. فأقبل بقبس من نار على أن يضرم عليهم الدار، فلقيته فاطمة فقالت: يا ابن الخطاب، أجئت لتحرق دارنا؟ قال: نعم، أو تدخلوا فيما دخلت فيه الأمة فخرج علي حتى دخل على أبي بكر فبايعه۔
العقد الفريد // المجلد 5 // الصفحة 13 // الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت

لیکن حضرت عمر کا سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کے دراقدس پر آگ لیکر آنا بسند صحیح ثابت نہیں ہے اور ابن عبد ربہ الاندلسی نے بھی اس واقعہ کو بلا سند بیان کیا ہے جس کی بناء پر آگ لیکر آنے والے واقعہ کو روایت کے لحاظ سے معتبر نہیں کہا جا سکتا گو کہ درایت کے لحاظ سے ہم اس کا انکار نہین کرسکتے۔ کیونکہ آگ لیکر آنے سے قطع نظر، کم از کم یہ بات تو بسند صحیح ثابت ہے کہ حضرت عمر نے سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کے در اقدس پر بذات خود آکر حلفیہ طور پر ان کو دھمکی دی کہ اگر علی اور ان کے ساتھیوں نے آپ کے گھر میں جمع ہونا نہیں چھوڑا تو خدا کی قسم میں آپ کے گھر کو آگ لگادوں گا، اس کے بعد جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے اہل خانہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ عمر بن خطاب نے آگ لگانے کی دھمکی دی ہے لہذا آپ لوگ اب اس گھر میں کوئی اجتماع نہیں کریں و گرنہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ عمر بن خطاب واقعی اپنی قسم کو پورا کر گذریں گے ۔
چنانچہ امام بخاری کے استاد حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر کی اس دھمکی کو ان کے آزاد کردہ غلام اسلم سے بسند صحیح نقل کیا ہے۔
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ أَنَّهُ حِينَ بُويِعَ لِأَبِي بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ يَدْخُلَانِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُشَاوِرُونَهَا وَيَرْتَجِعُونَ فِي أَمْرِهِمْ , فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: یا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ أَبِيكِ , وَمَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَيْنَا بَعْدَ أَبِيكِ مِنْكِ , وَايْمُ اللَّهِ مَا ذَاكَ بِمَانِعِي إِنِ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ النَّفَرُ عِنْدَكِ ; أَنْ أَمَرْتُهُمْ أَنْ يُحَرَّقَ عَلَيْهِمِ الْبَيْتُ قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاءُوهَا فَقَالَتْ: تَعْلَمُونَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ جَاءَنِي وَقَدْ حَلَفَ بِاللَّهِ لَئِنْ عُدْتُمْ لَيُحَرِّقَنَّ عَلَيْكُمُ الْبَيْتَ وَايْمُ اللَّهِ لَيَمْضِيَنَّ لِمَا حَلَفَ عَلَيْهِ ۔
المصنف لأبن أبي شيبة // رقم الحديث 37045 // الناشر: مكتبة الرشد - الرياض
اس روایت کی سند شیخین ( امام بخاری اور امام مسلم ) کی شرط کیمطابق صحیح ہے جیساکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی ازالۃ الخفاء میں اس کی تصریح کری ہے۔
اس روایت میں المصنف میں عموما یہ علل پیش کئے جاتے ہین
1، عبیداللہ بن عمر سے اگر کوفی روایت کریں تو خطا کرتے ہیں
2، اسلم (زید کے والد) کی روایت مرسل ہے
3، دیگر روایات میں یہ الفاظ تہدید نہیں تو یہ متن شاذ (یا منکر اگر ضعف سند کو تسلیم کریں) ہے
لیکن یہ اعتراض ایسے ہی ہے جیسے بن ابی قحافہ کی خلافت اور بن خطاب کی بہادری۔۔۔ ان اعتراضات کے جوابات دئے جاچکے ہیں
اعتراض: اسلم نے اس واقعہ کو نہیں دیکھا اور روایت مرسل ہے
جواب: اس اعتراض کو کرنے سے پہلے اگر کتب اہلسنت کا مطالعہ کرلیا ہوتا تو اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ بخاری کی تاریخ الکبیر میرے پیش نظر ہے اس کی جلد 2 ص 23 رقم 1565 طبع دار الفکر

عمر نے اسلم کو گیارویں ہجری میں خریدا۔
ابن حجر نے تو اپنی الاصابہ فی تمیز الصحابہ میں اسلم کا ذکر کیا جو عموما صحابی رسول ص کے حالات پر مشتمل کتاب ہے اور اس میں لکھا کہ اسلم نے رسول ص کے ساتھ دو سفر کئے اور رسول ص کی وفات کے بعد جناب عمر نے اسلم کو خریدا
الإصابة في تمييز الصحابة، ج 1، ص 63، رقم: 131، تحقيق: علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت
تو پتا یہ چلا کہ اسلم کے صحابی ہونے کا قول بھی پایا جاتا ہے اور ایسے راوی کی روایت لینا اصول علم حدیث کے عین مطابق ہے، چنانچہ ملا علی قاری فرماتے ہے:

قلت: مرسل التابعي حجة عند الجمهور، فكيف مرسل من اختلف في صحة صحبته.
یعنی تابعی کی مرسل جمہور علماء کے نزدیک حجت ہے اور اس کی مرسل تو قبول کرنے کے زیادہ لائق جس کی صحبت میں اختلاف ہو یعنی آیا وہ صحابی تھا یا تابعی

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 9، ص 434، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية
تہذیب الکمال کے اسلم کے شیوخ یوں ملتے ہیں:
.
وروى عن :
أبي بكر الصديق عبد الله بن أبي قحافة ( س ) ،
وعبد الله بن عمر بن الخطاب ( خ م ت ) ،
وعثمان بن عفان ،ومولاه عمر بن الخطاب ( ع ) ،
وكعب الأحبار ،
ومعاذ بن جبل ( ق ) ،ومعاوية بن أبي سفيان ،
والمغيرة بن شعبة ( د ) ،
وأبي عبيدة بن الجراح ،
وأبي هريرة ،
وحفصة بنت عمر بن الخطاب أم المؤمنين .
اور ادھر جتنے بھی اسلم کے شیوخ ہیں ان میں سے کوئی بھی مبانی اہلسنت کے نزدیک ضعیف نہیں بلکہ تقریبا 90 فیصد سے زیادہ صحابی ہے لہذا مرسل ہونے کے باوجود صحیح قرار دی جائے گی کیونکہ اسلم نے یقینا کسی ثقہ سے سنا ہوگا اور اس ثقہ نے یہ روایت بیان کی ہوگی
اور خود بخاری نے ایک روایت نقل کی جس میں اسلم نے رسول ص کے عنوان سے روایت کی ہے سند روایت ملاحظہ ہو:
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ
صحیح بخاری، کتاب فضل القرآن حدیث 4725، ص 675
لہذا یہ ثابت ہوا کہ مصنف کی روایت صحیح بخاری کی شرط پر ہے، اور اب اس پر اگر اعتراض کیا جائےگا تو پھر صحیح بخاری اس روایت کو ضعیف ماننے پڑے گا اور شاہ ولی اللہ کے فتوے کے مطابق بدعتی ہونے کا طمغہ بھی لینا پڑے گا۔
اشکال: کوفیوں نے جو روایت لی ہے عبیداللہ سے اس میں اشکال ہے۔

جواب: اولا جہاں سے یہ بات نقل کی گئی ہے وہ شرح علل الترمذی، جلد نمبر 2، ص 772 سے ہے۔ ادھر مصنف کتاب شرح علل ابن رجب ہے اور یہ قول یعقوب بن شیبہ کا ہے اور یعقوب کی وفات 262 ہجری میں ہوئی جب کہ ابن رجب کی وفات 795 ہجری میں ہوئی، لہذا معترض پر واجب و ضروری ہے کہ وہ اس کی پوری سند ابن رجب سے لے کر ابن شیبہ تک نقل کریں
ثانیا، اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے تو اس کتاب کے محقق نور الدين عتر نے کہا اس قول کو نقل کرنے کے بعد:
( ما نقله الحافظ ابن رجب من قول يعقوب بن شيبة يخالف إطباق أئمة الفن على توثيقه بإطلاق

یعنی یعقوب بن شیبہ کا قول دیگر محدثین و آئمہ علم حدیث کے قول کے مخالف ہیں جنہوں نے عبیداللہ بن عمر کی مطلقا توثیق کی
ثالثا، علامہ عبداللہ بن عبدالرحمان جنہوں نے شرح علل الترمذی کی شرح لکھی وہ اس قول کو خاص اس سند کے ساتھ قرار دیتے ہیں جو اس طرح منقول ہو الصنعاني عن الثوري - الكوفي - عن عبيد الله بن عمر یعنی ہر کوفی نہیں فقط سفیان الثوری الکوفی اگر عبیداللہ سھے روایت کریں
رابعا، اگر اب بھی میری گذارشات و باتیں معترض کے ذھن تک نہیں پہنچی تو خود صحیحین میں کافی راوی ہیں جو کوفی تھے اور انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کی
پہلا راوی ابو اسامہ الکوفی کی روایت جو صحیح بخاری ( حدثنا أبو أسامة حدثنا عبيد الله بن عمر) اور صحیح مسلم (حدثنا أبو أسامة حدثني عبيد الله بن عمر)
خود محمد بن بشر سے روایت بھی موجود ہے (حدثنا محمد بن بشر حدثنا عبيد الله بن عمر)
اور سنن ابن ماجہ رقم 942 کی ایک سند یوں ہے: حدثنا محمد بن بشر عن عبيد الله بن عمر کی روایت کی تصحیح البانی نے کی۔
مسند احمد کی ایک سند : ثنا محمد بن بشر ثنا عبيد الله بن عمر رقم 7851

شعیب ارنووط اور احمد شاکر نے سند کی تصحیح کی۔

تو یہ اعتراض بھی صحیح نہیں۔
اس تحقیق میں ہمارے دیگر براداران کی محنت ہے، ہم نے فقط تلخیص کی ہے۔
اور علامہ علی محمد الصلابی نے روایت کی سند کو صحیح کہا ملاحظ ہو اسمی المطالب فی سیرت امیر المومنین علی بن ابی طالب، ص 202، جز اول، طبع مکتب الصحابہ
اب اس روایت کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بعض علماء اہلسنت نے الفاظ ہی نقل نہ کئے جیسے کہ فضائل الصحابہ میں احمد بن حنبل عمر کے قول نقل کرنے کے بجائے فقط یہ نقل کرتے ہے کہ عمر نے کچھ کلام کیا، ملاحظہ ہو فضائل الصحابہ، جلد 1، ص 364

ابن عبدالبر نے بھی اس ہی تحریف کا ارتکاب کیا اور روایت کے جملے جس میں جناب عمر کی دھمکی تھی، اس کی جگہ یہ نقل کیا
ولئن بلغني لأفعلن ولأفعلن
ملاحظہ ہو الاستیعاب فی معرفتہ الاصحاب،جلد 1، ص 298، طبع وراق
http://islamport.com/d/1/trj/1/21/274.html
یہی تحریف کا ارتکاب صفدی نے بھی کیا ملاحظہ ہوتاب الصفدي ( الوافي بالوفيات ، ج 17 ، ص 167 ، ط دار إحياء التراث العربي - بيروت ، تحقيق : أحمد الأرناؤوط و تركي مصطفى )
( أسمى المطالب في سيرة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ، الجزء الأول ، الصفحة رقم 202 ، مكتبة الصحابة - الإمارات - الشارقة

لہذاء یہ الفاظ منکر نہیں بلکہ یہ خیانت منکرانہ ہے۔الموسوعة الشاملة - الإستيعاب في معرفة الأصحابislamport.comصدر هذا الكتاب آليا بواسطة الموسوعة الشاملة (اضغط هنا للانتقال إلى صفحة الموسوعة الشاملة على الإنترنت)
ایک اور نکتہ کا اضافہ کرتا چلوں کہ اگر جمہور کا قول مان بھی لیا جائے کہ اسلم مولی عمر تابعی تھے اور انہوں نے رسول اللہ کو نہیں دیکھا، تب بھی اسلم کی روایات جو حضرت عمر سے مروی ہیں ان میں کوئی کلام نہیں کیا جاسکتا کیونکہ صحیح بخاری کی ایک روایت سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ صحابی رسول، عبد اللہ ابن عمراسلم کی روایات پراعتماد کیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ عبد اللہ ابن عمر خود صحابی رسول اور حضرت عمر کے صاحبزادے ہوکر اپنے والد کی خبریں اسلم سے ہی پوچھتے تھے، ظاہر ہے کہ عبد اللہ بن عمر، اپنے والد کی خبروں کے حوالہ سے خاص طور پر، اسلم کو ثقہ اور صدوق سمجھ کر ہی اعتماد کیا کرتے تھے جبھی اپنے والد کی خبروں کی بابت ان سے استفسار کیا کرتے تھے ۔
چنانچہ امام بخاری نے کہا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ ابْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عُمَرَ عَنْ بَعْضِ شَأْنِهِ - يَعْنِي عُمَرَ -، فَأَخْبَرْتُهُ ۔
الصحیح للبخاری // رقم الحدیث 3687 // الناشر: دار طوق النجاة

Khair Talab and Ismail Deobandi(Shoaib Mazni)