Friday, 7 March 2014

بغض اہلبیت (ع) پر تنبیہ::



رسول اکرم ! اگر کوئی بندہ صفاء و مروہ کے درمیان ہزا ر سال عبادت الہی کرے پھر ہزار سال دوبارہ اور ہزار سال تیسری مرتبہ اور ہم اہلبیت (ع) کی محبت حاصل نہ کرسکے تو پروردگار اسے منہ کے بھل جہنم میں ڈال دے گا جیسا کہ ارشاد هوتاهے ” میں تم سے محبّتِ اقربا کے علاوہ اور کوئی سوال نہیں کرتاهوں“
Ref: ( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 1 ص 132 / 182 روایت ابوامامہ باہلی ، مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 198) ۔-------------------رسول اکرم ! میرے بعد بارہ امام هوں گے جن میں سے نوحسین (ع) کے صلب سے هوں گے اور نواں ان کا قائم هوگا، اور ہمارا دشمن منافق کے علاوہ کوئی نہیں هوسکتاهے ۔Ref: (کفایة الاثر ص 31 روایت ابوسعید خدری) ۔----------------------رسول اکرم ! جو ہماری عترت سے بغض رکھے وہ ملعون، منافق اور خسارہ والا هے ۔Ref: ( جامع الاخبار ص 214 / 527) ۔-----------------------جابر بن عبداللہ رسول اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، لوگو! جو ہم اہلبیت (ع) سے بغض رکھے گا اللہ اسے روز قیامت یهودی محشور کرے گا۔میں نے عرض کی حضور ! چاهے نماز روزہ کیوں نہ کرتا هو؟ فرمایا چاهے نماز روزہ کا پابند هوا اور اپنے کو مسلمان تصور کرتا هو۔Ref: (المعجم الاوسط 4 ص 212 / 4002 ، امالی صدوق (ر) 273 / 2 روایت سدیف ملکی، روضة الواعظین ص 297) ۔-----------------رسول اکرم ! ہر خاندان اپنے باپ کی طرف منسوب هوتاهے سوائے نسل فاطمہ (ع) کے کہ میں ان کا ولی اور وارث هوں اور یہ سب میری عترت ہیں ، میری بچی هوئی مٹی سے خلق کئے گئے ہیں، ان کے فضل کے منکروں کے لئے جہنم هے، ان کا دوست خدا کا دوست هے اور ان کا دشمن خدا کا دشمن هے ۔Ref: ( کنز العمال 12 ص 98 / 34168 روایت ابن عساکر، بشارة المصطفیٰ ص 20 روایت جابر) ۔

اہل عذاب میں سے ایک مردہ کا زندہ ہونا

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:عیسی بن مریم ایک گاوں میں پہنچے کہ وہاں کے رہنے والے، جانوروں پرندوں سمیت سب مر چکے تھے۔ فرمایا: یہ سب اللہ کے غضب اور عذاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں اور اگر اپنی طبیعی موت سے الگ الگ مرتے یقینا ایک دوسرے کو دفن کرتے۔ حواریوں نے عرض کیا: اے روح اللہ! اللہ سے کہیں کہ انہیں ہمارے لیے زندہ کرے۔ تاکہ ہمیں بتائیں کہ ان کا کردار کیسا تھا۔ حضرت عیسی نے اپنے خدا کی بارگاہ میں ان کے زندہ ہونے کی دعا کی۔ خدا کی جانب سے صدا آئی کہ انہیں آواز دو۔ پس حضرت عیسی علیہ السلام ایک ٹیلے پر چڑھے اور آواز دی: اے اس قریہ کے لوگو ان میں سے ایک نے جواب دیا: جی یا روح اللہ! ، فرمایا: وای ہو آپ پر تمہارا کردار کیسا تھا؟ اس نے جواب میں کہا: طاغوت کی عبادت اور دنیا سے محبت، لمبی لمبی آرزوئیں اور خدا کی عبادت سے غفلت۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا: دنیا کی نسبت تمہاری محبت کیسی تھی؟ عرض کیا: جیسے بچے کو ماں سے محبت ہوتی ہے۔ جب ہماری طرف رخ کرتی تھی ہم خوش ہو جاتے تھے اور جب منہ پھیر لیتی تھی تو غمگین ہو جاتے تھے۔فرمایا: طاغوت کی عبادت کیسی تھی؟ عرض کیا: گناہگاروں کو اپنا حاکم مانتے تھے ۔ فرمایا: آخر کار تم لوگوں کا انجام کیا ہوا؟ عرض کیا: ایک رات کو خوشی کے عالم میں سو رہے تھے۔ صبح کو ہاویہ میں گرفتار ہو گئے۔ فرمایا: ہاویہ کیا ہے؟ کہا : سجین ہے۔ فرمایا: سجین کیا ہے؟ عرض کیا: آگ کے پہاڑ کہ جو قیامت تک ہمارے اوپر گرتے رہیں گے۔ فرمایا: پس تم لوگوں نے کیا کہا اور کیا جواب ملا؟ کہا: ہم نے کہا ہمیں دنیا میں واپس پلٹا دو تاکہ ہم زہد اور تقوی اختیار کریں۔ ہمیں کہا گیا: تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔ فرمایا: وای ہو تم پر کیا ہوا کسی اور نے ان لوگوں میں سے ہم سے بات نہیں کی؟ عرض کیا: اے روح خدا! ان سب کے منہ میں آگ کی لگامیں پڑیں ہوئی ہیں۔ اور عذاب کے فرشتے ان پر مسلط ہیں۔ میں بھی ان کے درمیان پھنسا ہوا تھا لیکن ان میں سے نہیں تھا جب اللہ کا عذاب آیا مجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ پس میں جہنم کے دروازے پر ایک بال سے باریک رسی کے ذریعے لٹا ہوا ہوں۔ نہیں جانتا کب اس میں گر جاوں گا یا رہائی پاوں گا۔ پس حضرت عیسی علیہ السلام نے حواریوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: اے اللہ کے بندو! خشک روٹی نمک سے کھانا اور کھنڈروں میں سونا کہیں بہتر ہے اس صورت میں کہ دنیا اور آخرت خیر و عافیت کے ساتھ ہمراہ ہو۔كافي ج2 ص 318 (باب حب دنيا و حرص بر آن، ح 11)

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی شہادت

شہزادي دوعالم حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ عليہاجناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی شہادت
تاریخ شہادت:
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی تاریخ شہادت کے بارے میں کئی نظر ئے پائے جا تے ہیں:
١۔ کچھ سنی اور شیعہ علما کا نظر یہ یہ ہے کہ آپ کی شہادت گیارہ ہجری تیرہ(١٣) جمادی الاول کو ہوئی جن کو ہمارے علما ء میں سے مر حوم کلینی صاحب الامامةوالسیاسة جناب طبری شیعی صاحب کشف الغمہ وغیرہ نے فرمایا ہیں۔
اس نظر یے کی بناء پر حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم ۖ کے بعد صرف پچہتر دن زندگی گذاری کیونکہ پیغمبر اکرم کی وفات ٢٨ صفر گیارہ ہجری کو ہو ئی تھی ۔
علامہ مجلسی (٣) صاحب منتخب التواریخ ،صاحب منتہی الا مال وغیرہ نے فرمایا کہ جناب سیدہ کو نین کی شہادت تین جمادی الثانی گیارہ ہجری کو ہو ئی جس کی بناء پر حضرت زہرا نے پیغمبر گرامی کی وفات کے بعد پچا نوے دن زندگی گذاری۔
قارئین کرام ! اس اختلاف کی دو وجہ ہوسکتی ہے:
١۔ قدیم زمانے میں اکثر اسلامی مطالب اور تو اریخ خط کو فی میں لکھا جا تا تھا خط کو فی کی خصوصیت یہ تھی کہ نقطے کے بغیر لکھا جاتا تھا لہٰذا پڑھنے اور لکھنے میں لوگ اشتباہ کا شکار ہو جاتے تھے جیسے ٧٥دن حمسہ وسعون اور ٩٥ دن حمسہ وسعون کی شکل میں لکھا کر تے تھے لہٰذا نقطہ گزاری کے بعد اشتباہ ہوا ہے کیا خمسہ وسبعون تھا تا کہ ٧٥ دن والا نظر یہ صحیح ہو جا ئے یا خمسہ و تسعون صحیح ہے تاکہ ٩٥ والا نظریہ صحیح ہوجائے۔
٢۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ائمہ معصومین سے دو قسم کی روایات منقول ہیں ایک دستہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم کے بعد پچھتر دن زندگی گزاری ہے دوسرا دستہ روایات سے معلوم ہو تا ہے کہ پیغمبر کی وفات کے ٩٥دن بعد آپ نے جام شہادت نوش فرمایا اگر چہ تاریخ شہادت حضرت زہراکے بارے میں اور بھی نظریات ہیں لیکن معروف اور مشہور یہی مذکو رہ دونظر ئے ہیں لہٰذا باقی اقوال اور نظر یات ذکر کر نے کی ضرورت نہیں ہے اور اسلامی جمہوری ایران میں ہمارے پیشوا مجتہدین کے مابین بھی اختلاف ہے کچھ حضرات ١٣ جمادی الاول اور دوسرے کچھ مجتہدین ٣ جمادی الثانی کو حضرت زہرا کی شہارت مناتے ہیں لہٰذا حو زہ علمیہ قم میں ایام فاطمیہ کے نام سے دونوں مہینوں میں کچھ دنوں کے درس وبحث کو حضرت زہرا کے غم میں تعطیل کر تے ہیں۔سبب شہادت حضرت زہرا
تاریخ اسلام میں دو قسم کے خائن کسی سے مخفی نہیں ہیں:
عداوت اور دشمنی کی وجہ سے حقائق اور حوادث کو تحریف کے ساتھ نقل کر نے والے۔
عداوت اور دشمنی کی بنا ء پر تاریخ اور حوادث کی تحریف کر نے کی کو شش تو نہیں کی ہے۔
لیکن اگر تاریخ اور حقائق نقل کریں تو اپنا عقیدہ زیر سوال اور مذہب بے نقاب ہو جا تا ہے لہٰذا حضرت زہرا، اسلام میں مثالی خاتون ہو نے کے باوجود حضرت محمد ۖکی لخت جگر ہو نے کے علاوہ صحابہ کرام نے پیغمبر کی وفات کے فورا بعد حضرت زہرا کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟اگر تاریخ اور روایات کا مطالعہ کریں تو فریقین کی کتابوں میں حضرت زہرا پر ڈھائے گئے مظالم کم وبیش موجود ہیں اور اکسیویں صدی کے مفکر اور محقق تعصب سے ہٹ کر غور کریں تو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا سبب بخوبی واضح ہو جا تا ہے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا حضرت زہرا کے وفات پانے کی علت کیا تھی ؟ آپ نے فرمایا عمر نے اپنے قنفذ نا می غلام کوحکم دیا کہ اے غلام حضرت زہرا پر تلوار کا اشارہ کر جب قنفذ کی تلوار کی ضربت آپ کے نازک جسم پر لگی تو محسن سقط ہو ئے جس کی وجہ سے آپ بہت علیل ہوئیں اور دنیا سے چل بسیں (1)
سلیم ابن قیس سے نقل کیا گیا ہے کہ عمر ابن خطاب کے دور خلافت میں ایک سال تمام ملازمین کے حقوق کا آدھا حصہ کم کردیاتھا صرف قنفذ کے حقوق کو حسب سابق پورا دیا اورسلیم نے کہا میں جب اس وقت مسجد نبوی میں داخل ہو ا تو دیکھا کہ مسجد کے ایک گو شہ میں حضرت علی کے ساتھ بنی ہا شم کی ایک جماعت سلمان ،ابوذر مقداد محمد ابن ابو بکر ،عمرابن ابی سلمہ ،قیس ابن سعد بیٹھے ہو ئے تھے، اتنے میں جناب عباس نے حضرت علی سے پوچھا اے مولا ا س سال عمر نے تمام مولازمین کے حقوق کو کم کردیا ہے لیکن قنفذ کے حقوق کو کم نہیں کیا جس کی وجہ کیا ہے؟
حضرت نے چاروں اطراف نظر دوڑائی اور آنسوبہاتے ہو ئے فرمایا:
'' شکر لہ ضربة ضربہا فاطمة بالسوّط فماتت وفی عضدہا اثرہ کانہ الدملج ۔''

عمر نے قنفذ کے حقوق کو اس لئے کم نہیں کیاکیونکہ اس نے جو تازیانہ حضرت زہرا کے بازو پر اشارہ کیا تھا جس کا عوض یہی حقوق کا کم نہ کر نا تھا حضرت زہرا جب دنیا سے رخصت کر گیئں تو اس ضربت کا نشان آپ کے بازوئے مبارک پر بازوبند کی طر ح نمایاں تھا لہٰذا حضرت زہرا نے قنفذ کی ضربت کی وجہ سے جام شہادت نوش فرمایا:
''قال النظام ان عمر ضرب بطن الفاطمة یوم البیعة حتی القت المحسن من بطنھا۔''

نظام نے کہا بتحقیق عمر نے حضرت فاطمہ زہرا کے شکم مبارک پر بیعت کے دن ایک ایسی ضربت لگا ئی جس سے ان کا بچہ محسن سقط کر گیا۔
چنانچہ صاحب میزان الا عتدال نے کہا :
''ان عمر رفص فاطمة حتی اسقطت بمحسن ۔''
بتحقیق عمرنے حضرت زہرا پر ایک ضربت لگا ئی جس سے محسن سقط ہوئے ۔
نیز جناب ابراہیم ابن محمد الحدید جو الجوینی کے نام سے معروف ہیں جن کے بارے میں جناب ذہبی نے یوں تعریف کی ہے (ہو امام محدث فرید فخرالا سلام صدر الدین) انھوںنے اپنی قابل قدر گراں بہا کتاب فرائد السمطین میں ایک لمبی روایت کو ابن عباس سے نقل کیا ہے جس کا ترجمہ قابل ذکر ہے۔
ایک دن پیغمبر اکرم ۖ بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں حضرت امام حسن تشریف لائے جب پیغمبر کی نظر امام پر پڑی تو گریہ کر نے لگے پھر فرمایا اے میرے فرزند میرے قریب تشریف لائیں امام پیغمبر کے قریب آئے تو پیغمبر نے ان کو اپنی دائیں ران پہ بٹھایا پھر امام حسین آئے جب پیغمبر کی نظر آپ پر پڑی تو روتے ہوئے فرمایا اے میرے فرزند میرے قریب تشریف لائیں امام آنحضرت کے قریب آئے تو آنحضرت نے آپ کو اپنی بائیں ران پہ بٹھا یا اتنے میں جناب سیدہ فاطمہ زہرا تشریف لائیں تو ان کے نظر آتے ہی آپ رونے لگے اور فرمایا اے میری بیٹی فاطمہ میرے قریب تشریف لائیں انحضرت نے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب بٹھا یا پھر جناب امام علی تشریف لائے جب پیغمبر اکرم ۖ کو حضرت علی نظر آئے تو گریہ کر تے ہو ئے فرمایا اے میرے بھا ئی میرے قریب تشریف لائیں پیغمبر نے حضرت علی کو اپنے دائیں طرف بٹھا یا اور حضرت زہرا کی فضیلت بیان کر نے کے بعد آنحضرت ۖنے حضرت زہرا(س)کے بارے میں رونے کا سبب اس طرح بیان فرمایا :
''وانی لماراتیھا ذکرت مایصنع بہا بعدی کانی بہا وقد دخل الذل بیتہا وانتہکت حرمتہا وغصب حقہا ومنعت ارثہا وکسر جنبہا واسقطت جنینہا وہی تنادی یا محمداہ فلاتجاب وتسغیث فلا تغاث ۔''
بتحقیق جو سلوک میری رحلت کے بعد حضرت زہرا کے ساتھ کیا جائے گا وہ مجھے یاد آنے سے جب بھی حضرت زہرا نظر آتی ہیں بے ا ختیار آنسو آجاتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد ان کی حرمت پائمال اور ان کے گھر پر ذلت وخواری کا حملہ ان کے حقوق دینے سے انکار ان کا ارث دینے سے منع کر کے ان کا پہلو شہید کیا جائے گا اور ان کا بچہ سقط ہوگا اور وہ فریاد کرتی ہو ئی یا محمد اہ کی آواز بلند کریں گی لیکن کو ئی جواب دینے والا نہیں ہو گا وہ استغاثہ کریں گی لیکن ان کے استغاثہ پر لبیک کہنے والا کو ئی نہیں ہوگا۔
ان مذکورہ روایات سے بخوبی روشن ہو جاتا ہے کہ حضرت زہرا کے پیغمبر اکرم ۖکی رحلت کے فورا بعد شہید ہونے کا سبب صحابہ کرام کی طرف سےڈھائے گئے مظالم ہیں جن کا تحمل زمین اور آسما ن کو نہ ہو نے کا اعتراف خود حضرت زہرا نے کیا ہے:صبت علی مصائب لوانھا صبت علی الا یام صرن لیا لیا

ترجمہ : مجھ پر ایسی مصیبتیں اور مشقتیں ڈھائی گئیں اگر دنوں پرڈھائی جا تی تو دن اور رات بھی برداشت نہ کر تے ۔
پس خود اہل سنت کے معروف مورخین اور مئولفین کی کتابوں کا مطالعہ کر نے سے درج ذیل مطالب روشن ہو جاتے ہیں :
پیغمبر اکرم ۖ کی رحلت کے نو دن بعد فدک کوغصب کیا گیا۔
پیغمبر اکرم ۖ کی تجہیز وتکفین سے پہلے امامت اور خلافت کے ساتھ بازی کی گئی (٣) زہرا کے دولت سرا پر حملہ کر کے ان کی شخصیت کو پا ئمال کردیا گیا ان کے دروازے کو آگ لگا ئی گئی حضرت زہرا پر لگی ہو ئی ضربت نے حضرت زہرا کو مظلومیت کے ساتھ شہید کیا (٢)
لہٰذا وصیت میں حضرت زہرا نے فرمایا مجھے رات کو تجہیز وتکفین کر نا جس کا فلسفہ یہ تھا کہ زہرا دنیا کو یہ بتا نا چا ہتی تھیں کہ میں ان پر راضی نہیں ہو ںچو نکہ ان کے ہاتھوں ڈھائے گئے مظالم قابل عفوودرگزر نہیں ہے ۔………بحارالانوار جلد ٤٣ ص ١٩٣.کافی ج١ ص٤٥٨ الامامة و السیاسة ج١ ص٢٠ دلائل الامامة کشف الغمہ.٢۔یہ نظریہ ہمارے علماء میںسے جناب کفعمی (١)سید ابن طاووس
مصباح کفعمی ص٥١١ اقبال الاعمال ص ٦٢٣.(٣)بحارجلد ٤٣ ص١٧٠ . منتخب التواریخ منتہی الامال .برخانہ زہرا چہ گذشت ص٥٠ بحار الا نوار ج٤٣.کتاب بیت الا حزان ص١٤٣ . الوافی بالوافیات جلد ٦ص ١٧.میزان الاعتدال جلد١ ص١٣٩ .فرائد السمطین ( نقل از کتاب الحجتہ الغرّا )وفاء الوفاء جلد ٢ ص٤٤٤ .نقل از کتاب الحتہ الغرا

~ساٹھ برس اور تیس برس کی عمر~

سوال:دو نیک اشخاص ہیں، ایک کو خدا نے تیس برس کی عمر عطا کی اور دوسرے کو ساٹھ برس کی عمر عطا کی۔ جب تیس برس کی عمر رکھنے والا شخص روز۔ حشر خدا کی بارگاہ میں پیش ہوا تو اُس نے کہا:تُو نے میری عمر زیادہ کیوں نہیں کی تاکہ میں بھی اپنے بھائی کی طرح سے زیادہ عرصے تک تیری عبادت کرتا اور زیادہ درجات کا حقدار قرار پاتا؟
واضح کریں کہ اگر بالفرض ایسا سوال کیا جائے تو اللہ تعالٰی کیا جواب دے گا۔
جواب:اس سوال کے متعلق ہم تین جواب دیں گے:
پہلا جواب:-ہر چیز کے متعلق دو چیزوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے:1 کمیت (Quantity)2 کیفیت (Quality)
کمیت کا مقصد یہ ہے کہ مثلا ایک انسان ایک سال مسلسل نماز۔ شب ادا کرتا ہے اور پنجگانہ نمازوں کی تعقیبات پڑھتا ہے اور روزانہ قرآن۔ حکیم کی تلاوت سے بھی مشرف ہوتا ہے اور فضول خرچی سے پرہیز کرتا ہے اور فاضل دولت راہ۔ خدا میں خرچ کرتا ہے۔
کیفیت کے متعلق یہ سمجھیں کہ مثلا ایک شخص نماز۔ مغرب و عشاء کو پورے اخلاص۔ قلب اور آداب۔ ظاہری کے ساتھ ادا کرتا ہے اور یوں اسکی نماز خشوع و ادب کا نمونہ بن جاتی ہے۔ پھر یہ شخص سو جاتا ہے اور نماز۔ فجر کامل اخلاص۔ قلب اور خشوع و ادب کے ساتھ پڑھتا ہے تو ایسی نماز کی اللہ کے ہاں بڑی قدر و قیمت ہے اور یہ نماز بےدلی سے ادا کی گئی تمام رات کی نمازوں سے کئی گنا افضل ہے۔ تو ثابت ہوا کہ عمل کے اجر کیلیئے صرف کمیت کو ہی مد نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ کیفیت کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔اسی لیئے حبیب۔ خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "دو ہلکی پھلکی رکعات پہ مشتمل نماز کو سکون سے پڑھنا پوری رات کے قیام سے بہتر ہے۔"(بحار النوار ج-84، ص-264)اس حدیث سے یہی مفہوم اخذ ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میں کمیت کے بجائے کیفیت کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
اس تمہید کے بعد ہم عرض کریں گے کہ ممکن ہے کہ جس شخص کو اللہ نے تیس سال کی زندگی عطا فرمائی ہو اسے اخلاص۔ عمل کی دولت سے مالامال کردیا ہو جو کہ ساٹھ سال رکھنے والے کو میسر نہ ہو اور یوں تیس سال کی عمر رکھنے والا شخص ان مراتب و منازل کو حاصل کرلے گا جو کہ ساٹھ سال والے کو بھی حاصل نہ ہوئے ہوں۔ لہٰذا یہ سوال کرنے کی نوبت ہی پیش نہیں آئے گی۔
دوسرا جواب:-جس شخص کو اللہ نے تیس سال کی عمر میں موت دی ہے ممکن ہے کہ اس میں یہ حکمت کارفرما ہو کہ اگر یہ مزید عرصہ زندہ رہا تو اس کے حالات بدل جائیں گے اور وہ عمل۔ خیر کو جاری نہ رکھ سکے گا بلکہ پہلے سے بجالائے ہوئے اعمال بھی تباہ کر بیٹھے گا۔ اسی لیئے اسے تیس برس میں موت دینا ہی بہترین فیصلہ ہے اور یوں جب وہ شخص اپنے اس فائدے کو دیکھے گا تو وہ کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔
تیسرا جواب:-یہ بھی ممکن ہے کہ تیس سال میں مرنے والے کی عمر اللہ نے پہلے زیادہ مقرر کی ہو لیکن اس سے قطع رحمی سرزد ہوئی ہو جس کی وجہ سے اللہ نے اس کی عمر گھٹا کر اسے تیس سال میں بدل دیا ہو اور اسی طرح سے ساٹھ سال عمر پانے والے کیلیئے بھی یہ احتمال موجود ہے کہ اللہ نے اس کی عمر کم رکھی ہو لیکن اس نے صلہ رحمی کی ہو جس کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے اس کی عمر کو طویل کردیا ہو کیونکہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ:اپنے مقررہ وقت پہ مرنے والوں سے زیادہ تعداد گناہ کر کے مرنے والوں کی ہوتی ہے اور اپنی مقرر شدہ زندگی سے زیادہ تعداد نیکی کرکے زندہ رہنے والوں کی ہوتی ہے۔(بحار الانوار، ج-73، ص-354)
اور جب قیامت کے دن حقائق کھلیں گے تو اس قسم کے سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
شہید محراب آیت اللہ سید عبد الحسین دستغیب شیرازی (ر۔ہ)کتاب: جواب حاضر ہے۔
آغا قاسم علی۔

فاطمہ اور صبر فاطمہ

[یا ایتھا الصدیقۃ الشھیدۃ ع] ابو بصیر نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ جناب فاطمہ الزہرا ؑبیس جمادی الثانی کو جب کہ پیغمبر اکرم ؐ کی عمر پینتالیس سال تھی اس وقت بی بی اس دنیا میں تشریف لائیں آٹھ سال تک بی بی مکہ میں باپ کے ساتھ رہیں اور دس سال تک باپ کے ساتھ بسر کئے باپ کی وفات کے پچھتر دن بعد زندہ رہیں اور تین جمادی الثانی گیارہ ھجری کو اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئیں۔جناب فاطمہ الزہرا ؑاسلام میں مثالی خاتون حضرت رسول اکرم ؐ فرماتے ہیں عورتوں میں سے بہترین عورتیں چار عورتیں ہیں اول مریم دختر عمران دوم فاطمہ الزہرا ؑدختر حضرت محمد مصطفی ؐ سوم حضرت خدیجہ بنت خویلد چہارم حضرت آسیہ زوجہ فرعون منابہ کشف الغمہ ج۲ ص۷۶ ۔حضرت رسول اکرم ؐ مزید فرماتے ہیں بہترین عورتوں میں سے سب سے بہترین عورت حضرت فاطمہ الزہرا ؑہیں ۔منار کشف الغمہ ج۲ ص ۷۶ حضرت امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ جناب فاطمہ الزہرا ؑاللہ تعالی کے ہاں نو ناموں سے یاد کی جاتی ہیں اول فاطمہ ؑدوم صدیقہ ؑسوم مبارکہ ؑچہارم طاہرہ ؑپنجم زکیہ ؑششم رضیہ ؑہفتم مرضیہ ؑہشتم محدثہ ؑنہم زہرا ؑجناب فاطمہ ؑ کے تمام نام رکھے جانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ برائیوں اور فساد سے محفوظ ہیں اور معصوم ہیں اور اگر علی ؑ نہ ہوتے تو فاطمہ زہرا ؑکا کوئی ہمسر نہ ہوتا کشف الغمہ ج۲ ص۸۹ اس کے علاوہ امام محمد باقر ؑ سے سوال کیا گیا کہ حضرت جناب فاطمہ ؑکا نام زہرا کیوں رکھا گیا تو آپ نے جواب دیا کہ اس لئے کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنی عظمت کے نور سے پیدا کیا تو آپ کے نور سے زمین وآسمان اتنے روشن ہوئے کہ ملائکہ اس نور سے اتنے نتاثر ہوئے کہ ملائکہ اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں گر گئے اور عرض کرنے لگے خدایا یہ کس کا نور ہے اللہ تعالی نے جواب دیا کہ یہ میری عظمت کے نور میں سے یہ ایک شمعہ ہے جسے میں نے پیدا کیا ہے اور ان کو آسمان پر سکونت دی ہے اور اسے پیغمبروں میں سے بہترین پیغمبر کے صلب سے پیدا کیا ہے اور اسی نور سے دین کے امام وپیشوا پیدا کروں گا تا کہ لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیں اور وہ پیغمبر کے جانشین اور خلیفہ ہوں گے کشف الغمہ ج۲ ص۹۰ حضرت امام محمد باقر ؑ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اللہ تعالی نے فاطمۃ الزہرا ؑکو علم کے وسیلہ سے فساد اور برائیوں سے محفوظ رکھا کشف الغمہ ج۲ ص۷۹ حضرت عائشہ کہتی ہے میں نے پیغمبرص کے بعد کسی کو فاطمہ زہرا ؑسے سچا نہیں دیکھا زخائر العقبی ص۶۶
حضرت رسول اکرم ؐ فرماتے ہیں جب قیامت برپا ہو گی عرش سے اللہ تعالی کا منادی ندا دے گا کہ لوگوں اپنی آنکھوں کو بجد کر لو تا کہ حضرت فاطمہ زہرا ؑپل صراط سے گزر جائیں :کشف الغمہ ج۲ ص۹۳ زخائر العقبی کفعمی نے مصباح میں لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہرا ؑجمعہ کے دن میں جمادی دنیا میں تشریف لائیں :بحار الانوار ج۶۳ ص۶ حضرت محمد مصطفی ؐ نے فرمایا اے فاطمہ ؑخدا وند عالم نے جب دنیا کی طرف پہلی دفعہ توجہ نگاہ کی تو مجھے تمام مردوں پر چنا جب دوسری مرتبہ نگاہ کی تو تمہارے شوہر علی ابن ابی طالب ؑ کو مام لوگوں پر چنا اور جب تیسری مرتبہ توجہ کی تو حسن اور حسین ؑ کو جنت کے جوانوں پر برتری اور فضیلت عناءت کی :کشف الغمہ ج ۲ ص۹۱حضرت جناب ام سلمہ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ مشاہدہ پیغمبر اسلام ؐ سے جناب فاطمہ الزہرا ؑتھی کشف الغمہ ج ص۹۷ حضرت رسول اکرم ؐ نے فرمایا کہ جنت میں سب سے پہلے فاطمہ الزہرا ؑداخل ہوں گی بحار الانوار ج۶۳ ص۶۳ امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا کہ فاطمہ کا نام فاطمہ اس لئَ رکھا گیا تھا کہ لوگوں کو آپ کی حقیقت کرنے کی قدرت نہ تھی بحار الانوار ج۶ ص۶۹اس کے علاوہ حضرت رسول اکرم ؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھَ اور علی ؑ اور فاطمہ ؑکو ایک نور سے خلق کیا کشف الغمہ ج۳ ص۹۱
ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ وہ کون سے کلمات تھے جس کی وجہ سے حضرت آدم ؑ کی دعا قبول ہوئی تو جواب دیا گیا کہ وہ کلمات جن سے آدم ؑ کی دعا قبول ہوئی وہ کلمامحمد ؐ علی ؑ فاطمہ ؑحسن ؑ حسین ؑ تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے آدم ؑ کی دعا قبول فرمائِ:کشف الغمہ ج۲ ص۹۱
حضرت پیغمبر اسلام ؐ نے فرمایا :شب معراج جب میں نے جنت کی سیر کی میں نے وہاں فاطمہ ؑکا محل دیکھا جس میں ستر قصر تھے جو لؤلؤ اور مرجان سے بنائے گئے تھے وہاں موجود تھے ۔بحار الانوار ج ۴۳ ص۷۶
ایک دفعہ پیغمبر ؐ نے فاطمہ ؑکو مخاطب کر کے فرمایا فاطمہ جانتی ہو تیرا نام فاطمہ کیوں رکھا گیا ہے حضرت علی ؑ نے فرمایا فاطمہ نام فاطمہ کیوں رکھا تو پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا فاطمہ کا نام فاطمہ اس لئے رکھا کہ یوں کہ آپ اور آپ کے پیرو کار دوزخ کی آگ سے محفوظ ہوں گے یعنی تمام امان میں ہوں گے :بحار الانوار ج۴۳ ص۱۴
حضرت امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم ؐ جناب فاطمہ ؑکو زیادہ بوسے دیا کرتے تھے ایک دفعہ عائشہ نے اعتراض کیا کیوں ان کو اتنے بوسے دیتے ہیں تو حضور نے جواب دیا کہ جب مجھے معراج پر لایا گیا تو میں بہشت میں داخل ہوا حضرت جبرائیل ؑ مجھے درخت طوبی کے قریب لے گئے اور اس درخت کا میوہ مجھے دیا میں نے اس میوہ کو کھایا تو اس میوہ کے ذریعے نطفہ وجود میں آیا اور حضرت خدیجہ ؑسے ہمبستر ہوا تو اس سے فاطمہ ؑکانطفہ ٹھرا یہی وجہ ہے جب میں فاطمہ کا بوسہ لیتا ہوں تو درخت طوبی کی خوشبو میرے مشام تک پہنچتی ہے میں اسے محسوس کرتا ہوں بحار الانوار ص۴۳ ص۶ مذہب اہل سنت اس روایت کے صحیح ہونے کے معترف ہیں وہ روایت اس امر کو بیان کر رہی ہے حضرت رسول خدا ؐ نے فرمایا الفاطمۃ بضعۃ منی فمن اغضبوا اغضبنی حضرت فاطمہ ؑمیرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ہے اور اس کے علاوہ جس شخص نے اس کو راضی کیا ہے اس نے مجھے راضی کیا ہے صحیح بخاری اس کے علاوہ قرآن وسنت کے حکم کے مطابق پیغمبر کا گضب خدا کا غضب ہے علماء اہل سنت نے یہ حدیث نھی نقل کی قال رسول اللہ لفاطمۃ ان اللہ یغضب لغضبک ویرضی لرضاک ۔پیغمبر اسلام ؐ فرماتے ہیں حضرت فاطمہ کے لئے بے شک اللہ تعالی فاطمہ کے غضب سے غضبناک ہوتا اور اس کی رضایت اللہ کی رضایت مستدرک صحیحین معجم کبیر ج! ص۱۰۸
جس کی رضا پر خدا وند عالم بغیر کسی قید وشرط کے راضی اور غضب سے غضبناک ہو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی رضا وغضب سے پاک ہو اور یہی عصمت کبری ہےنجران کے نصاری کے ساتھ رسول خدا ؐ کا مباہلہ اس قوم کے لئے رحمت خدا سے دوری کی درخوواست تھِ وہ دعا جس کی قبولیت سے انسان حیوان کی شکل میں منقلب ہو جائے خاک اپنی حالت تبدیل ک کے آگ بن جائے اور ایک امت صفحہ ہستی سے مٹ جائے قرآن میں واضح ہے آیت :انما امرہ ازا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون سورہ یسین اس کا صرف امر یہ ہے کہ یہ کسی شئ کے بارے میں کہنے کا ارادہ کر لیں ہو جا تو وہ شئی ہو جاتی ہے ۔یہ ارادے سے متصل ہوئے بغیر نا ممکن ہے یہ انسان کامل کی منزلت ومقام ہے اس کی رضاء و غضب خدا کی رضاو غضب کا مظہر ہو یہ مقام حضرت خاتم النبیین اور اس کے جانشین کا ہے وہ واحد خاتون جو اس مقام پر فائز ہوئیں وہ صدیقہ کبری کی ہستی ہے جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عصمت کبری جو ولایت کلیہ اور امامت عامہ کی روح ہے وہ فاطمۃ الزہرا ؑمیں موجود ہے توضیح المسائل حضرات خراسانی اس کے علاوہ حضرت پیغمبر اسلام ؐ نے فرمایا اپنی بیٹی کو مخاطب کر کے کہا یا فاطمہ من صلی علیک غفر اللہ لہ والحقہ لی حیث کست فی الجنۃ :اے فاطمہ ؑجو تیری ذات پر صلوات بھیجے گا اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا دوسرا نبی فرماتے ہیں وہ میرے ساتھ جنت میں داخل ہو گا یعنی میرے ساتھ ہو گا مغنی الاحادیث :
شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
کرم کا مخزن سخا کا مرکز عطا سراپا جناب زہرا ؑنبی کی سیرت نبی کی صورت نبی کا نقشہ جناب زہرا ؑتمام حوریں کنیز تک غلام ان کے ملک سارے مگر چلاتی ہے خود ہی چکی بغیر شکوہ جناب زہراؐ۔

کیا پیغمبر اکرم صہ کا عزیز و رشتیدار ہونا روز قیامت کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے؟

پھاڑ پر کھڑے ہوکر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کے" اے فرزندگان بنی ھاشم، اے فرزندگان عبدالمطلب میں تمہارے درمیاں اللہ تعالی کا بھیجا ہوا پیغمبر صہ ہوں اور میں تم لوگوں کا ھمدرد ہوں۔ یہ نہ کھو کے محمد صہ ہم میں سے ہی ہیں، اللہ کی قسم نہ تم میں سے اور نہ تمہارے علاوہ میرا کوئی مقلد و پیروکار ہے کے جب تک وہ متقی نہ ہو۔ میں تمہیں روز محشر نہیں پہچانونگا اگر تم میرے پاس اس طرح آئے کے دنیا تمہارے کاندھوں پر ہو۔ اور لوگ اس طرح آئیں کے آخرت انکے ساتھہ ہو۔ یقینن میرے اور تمہارے درمیاں جو کچھہ بھی ہے میں نے اس کے لیے اپنے آپ سے معذرت کرلی ہے اور اس سے بھی جو تمہارے اور اللہ عزوجل کے درمیاں ہے۔ میرے پاس اپنے اعمال ہیں اور تمہارے پاس اپنے۔صفات شیعہ صفحہ 5 حدیث نمبر 8اس روایت کی سند صحیح ہے
روایت کا عربی متن
حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل رحمه الله قال حدثنا محمد بن جعفر الحميري عن أحمد بن محمد بن علي عن الحسن بن محبوب عن علي بن رئاب عن أبي عبيدة الحذاء قال سمعت أبا عبد الله ع يقول لما فتح رسول الله ص مكة قام على الصفا فقال يا بني هاشم يا بني عبد المطلب إني رسول الله إليكم و إني شفيق عليكم لا تقولوا إن محمدا منا فو الله ما أوليائي منكم و لا من غيركم إلا المتقون ألا فلا أعرفكم تأتوني يوم القيامة تحملون الدنيا على رقابكم و يأتي الناس يحملون الآخرة إلا و إني قد أعذرت فيما بيني و بينكم و فيما بين الله عز و جل و بينكم و إن لي عملي و لكم عملكم
http://shiaonlinelibrary.com/الكتب/1439_بحار-الأنوار-العلامة-المجلسي-ج-٨/الصفحة_361

Tuesday, 4 March 2014

Abu Talib(a.s) ka eemaan

ابو طالب؛ نيک خصال جوانمرد
ابوطالب عليہ السلام، امير المؤمنين علي عليہ السلام کے والد بزرگوار اور رسول اللہ (ص) کے چچا اور آپ (ص) کے والد ماجد کے سگّے بھائي ہيں دونوں کي والدہ بھي ايک ہے. انہوں نے اس بارے ميں شاعري کي زبان ميں فرمايا ہے:

لا تخذلا و انصرا ابن عمكما
إخي لامي من بينہم و إبي(1)
[بيٹو] اپنے چچا زاد بھائي کو تنہا مت چھوڑو اور اس کي مدد کرو
کہ وہ ميرے بھائيوں کے درميان والد اور والدہ دونوں کي طرف سے ميرے بھائي کا فرزند ہے.
1. معروف عصر:جناب ابو طالب (ع) اپني شخصيت کي عظمت اور ہر لحاظ سے قدآور، طاقتور اور اپنے زمانے ميں دين ابراہيم عليہ السلام کے مبلغ تھے.2. ان کي قابل قبول روايتيں:انہوں نے عصر جاہليت ميں ايسي نيک روايات کي بنياد رکھي جن کو کلام وحي کي تأئيد حاصل ہوئي. (2) حضرت ابوطالب عليہ السلام «قسامہ» کے باني ہيں جو اسلام کے عدالتي نظام ميں مورد قبول واقع ہؤا? (3)نيكوان رفتند و سنت ہا بماندو زلئيمان ظلم و لعنت ها بماند------نيک لوگ چلے گئے؛ ان کي سنتيں باقي رہ گئيں جبکہ
لئيموں سے ظلم و لعنت کے سوا کچھ بھي باقي نہ رہا3. بندہ خدا:ابو طالب جو «عبد مناف» کے نام سے مشہور تھے، اور عبدمناف کے معني ہيں «بندہ خدا» يوں وہ رسول اللہ (ص) کے تيسرے جد امجد کے ہم نام بھي تھے? (4)4. کفر کے خلاف جدوجہد:وہ اپنے والد ماجد «حضرت عبدالمطلب» کي مانند يکتاپرستي کے راستے پر گامزن رہے اور کفر و شرک اور جہل کے زير اثر نہيں آئے.
5. ان کے ايمان کے دلائل:
ان کي شاعري ان کے طرز فکر اور ان کے ايمان کو واضح کرتي ہے اور اس مضمون کے آخر ميں ان کے بعض اشعار بھي پيش کئے جارہے ہيں.
6. خلوص قلب:ويسے تو بہت ايسے واقعات تاريخ ميں ثبت ہيں جن سے حضرت ابوطالب عليہ السلام کے خلوص دل اور صفا و طہارت قلب عياں ہے. مگر ہم يہاں صرف ايک واقعہ بيان کرنے پر اکتفا کرتے ہيں اور وہ يہ ہے کہ:اہليان حجاز پر قحط عارض ہؤا. لوگ – عيسائي و مشرک و جاہل و بت پرست اور دين حنيف کے پيروکار – سب کے سب مؤمن قريش حضرت ابوطالب عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوئے؛ کيونکهہ انہيں معلوم تھا کہ مکہ ميں دين ابراہيم (ع) کے اس مروج و مبلغ جتني کسي کو بھي خدا کي اتني قربت حاصل نہيں ہے چنانچہ انہوں نے ان تشويشناک حالات ميں ان ہي سے درخواست کي کہ اٹھيں اور "خدا سے باران رحمت کي درخواست کريں"ان کا جواب مثبت تھا اور ايسے حال ميں بيت اللہ الحرام کي طرف روانہ ہوئے کہ ان کي آغوش ميں «چاند سا» لڑکا بھي تھا. حضرت ابوطالب (ع) نے اس لڑکے سے کہا کہ کعبہ کو پشت کرکے کھڑا ہوجائے اور حضرت ابوطالب (ع) نے اس لڑکے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھايا اور خداوند متعال کي بارگاہ ميں باران رحمت کي دعا کي. بادل کا نام و نشان ہي نہ تھا مگر اچانک آسمان سے بارش نازل ہونے لگي اور اس بارش نے حجاز کي پياسي سرزمين کو سيراب کيا اور مکہ کي سوکھي ہوئي وادي کھل اٹھي.وہ چاند سا لڑکا حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے سوا کوئي اور نہ تھا (5) جنہيں ابوطالب ہي جانتے اور پہچانتے تھے کہ وہ خاتم الانبياء و المرسلين ہيں اور اسي بنا پر خدا سے ان کے صدقے باران رحمت کي دعا کي جو فوري طور پر قبول بھي ہوئي. حضرت ابوطالب عليہ السلام اسي حوالے سے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي شان ميں فرماتے ہيں:و أبيض يستسقى الغمام بوجهه
ثمال اليتامى عصمة للارامل-----وہ ايسا روشن چہرے والا ہے جس کے صدقے بادل پر باران ہوجاتے ہيں
وہ يتيموں کي پناہ گاہ اور بيواؤں کے محافظ ہيں “هركسي اندازه روشن دليغيب را بيند به قدر صيقليهركه صيقل بيش كرد او بيش ديد
بيشتر آمد بر او صورت پديد
گر تو گويي كان صفا فضل خداست
نيزاين توفيق صيقل زآن عطاست
--------ہر کوئي اپني روشن دلي کي سطح مطابقغيب کو ديکھتا ہے اپنے قلب کي صفا و خلوص کي حد تکجس نے جتنا دل کو زيادہ خالص کيا اس نے زيادہ ہي ديکھااس کے لئے زيادہ سے زيادہ صورتيں نمودار ہوئيںاگر تو کہے کہ وہ صفا و خلوص فضل خداوندي ہےتو يہ تزکيہ و صيقل دل بھي اسي عطا کا حصہ ہے7. رؤيائے صادقہ (سچا سپنا):حضرت ابوطالب نے «حجر اسماعيل» ميں ايک سچا خواب ديکھا کہ آسمان سے ان کي طرف ايک دروازہ کھل گيا ہے اور اس دروازے سے نور اور روشني نيچے آکر ارد گرد کے ماحول کو روشن کررہي ہے.بس عجب در خواب روشن مي شوددل درون خواب روزن مي شودآنچنان كہ يوسف صديق راخواب بنمودي و گشتش متكا---------پس عجب ہے کہ خواب ميں ہي روشن ہوتا ہےخواب کے اندر دل دريچہ بن جاتا ہےجيسا کہ يوسف صديق کو خواب دکھائي ديااور يہي خواب ان کے لئے سہارا بن گياابوطالب عليہ السلام اٹھے اور خواب تعبير کرنے والوں کے پاس روانہ ہوئے. اور اپنے خواب کي تفصيل بيان کي.مُعَبِّر نے کہا: بشارت ہو آپ کو! آپ کو بہت جلد ايک نہايت شرافتمند فرزند عطا ہوگا. ثقة الاسلام محمد بن يعقوب کليني رحمة اللہ عليہ نے الکافي ميں روايت کي ہے کہ جب فاطمہ بنت اسد سلام اللہ عليہا نے حضرت ابوطالب عليہ السلام کو نبي اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي ولادت کي خوشخبري سنائي؛ حضرت ابوطالب (ع) نے بھي ان کو علي عليہ السلام کي ولادت کي خوشخبري سنائي.(6)8. رسول خدا(ص) کي سرپرستي:حضرت عبدالمطلب عليہ السلام کے بيٹوں ميں حضرت ابوطالب (ع) برتر اخلاقيات کے مالک تھے؛ ان کي روش دوسرے بھائيوں کي نسبت زيادہ شائستہ تھي؛ رسول اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے ساتھ شديد محبت کرتے تھے اور آپ (ص) پر بہت مہربان تھے اور ان اوصاف کے علاوہ وہ رسول اللہ (ص) کے لئے نہايت عميق عقيدت و احترام کے قائل تھے چنانچہ حضرت عبدالمطلب (ع) نے اپنے انتقال سے قبل ان کو حضرت رسول (ص) کا سرپرست مقرر کيا.9. رسول خدا(ص) کي تربيت اور نگہداشت:حضرت ابوطالب عليہ السلام رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے شديد محبت کرتے تھے؛ علاوہ ازيں وہ آپ (ص) کے روشن مستقبل سے آگاہ تھے اور انہيں معلوم تھا کہ آپ (ص) مستقبل ميں رسالت الہيہ کے حامل ٹہريں گے؛ چنانچہ انہوں نے آپ (ص) کي پرورش و تربيت اور حفاظت کے سلسلے ميں ايک لمحہ بھي ضائع نہيں کيا اور اس راستے ميں انہوں نے قرباني اور ايثار کي روشن مثاليں قائم کيں اور ہر جگہ اور ہر مقام پر خطروں ميں بھي آپ (ص) کو اپنے آپ پر مقدم رکھا. (7)10. شريک حيات کو ہدايت:سرپرستي کا اعزاز ملا تو رسول اللہ (ص) کو گھر لے آئے اور اپني اہليہ کو ہدايت کرتے ہوئے فرمايا: «يہ ميرے بھائي کے فرزند ہيں جو ميرے نزديک ميري جان و مال سے زيادہ عزيز ہيں؛ خيال رکھنا! مبادا کوئي ان کو کسي چيز سے منع کرے جس کي يہ خواہش کريں » اور حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ عليہا بھي ايسي ہي تھيں اور ان کو پالتي رہيں اور ان کي ہر خواہش پوري کرتي رہيں اور رسول اللہ (ص) کے لئے مادر مہربان تھيں.(8)11. مشرکين کے مد مقابل آہني ديوار:مورخين نے عبداللہ ابن عباس رضي اللہ عنہ سے نقل کيا ہے کہ: ابوطالب (ع) رسول خدا (ص) کو بہت دوست رکھتے تھے اور اپنے بيٹوں پر بھي اتني مہرباني روا نہيں رکھتے تھے جتني کہ وہ رسول اللہ (ص) پر روا رکھتے تھے؛ ابوطالب (ع) رسول اللہ (ص) کے ساتھ سويا کرتے تھے اور گھر سے باہر نکلتے وقت آپ (ص) کو ساتھ لے کر جاتے تھے؛ مشرکين نے ابوطالب عليہ السلام کے انتقال کے ساتھ ہي پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کو آزار و اذيت پہنچانے کا وہ سلسلہ شروع کيا جو حيات ابوطالب (ع) ميں ان کے لئے ممکن نہ تھا؛ چنانچہ رسول اللہ (ص) نے خود بھي اس امر کي طرف بار بار اشارہ فرمايا ہے.(9)12. رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے دشمنوں کو سزا:ايک دفعہ حضرت رسول اکرم صلي الله عليہ و آلہ و سلم مسجد الحرام مين نماز ادا کررہے تھے کہ قريشي مشرکين نے اونٹ کي اوجڑي آپ (ص) کے جسم مبارک پر پھينک دي اور آپ (ص) کے کرتے کو آلودہ کيا. رسول اللہ (ص) حضرت ابوطالب(ع) کے پاس آئے اورفرمايا: چچاجان! آپ اپنے خاندان ميں ميرے رتبے کے بارے ميں کيا رائے رکھتے ہيں؟ ابوطالب نے کہا: پيارے بھتيجے ہؤا کيا ہے؟رسول اکرم (ص) نے ماجرا کہہ سنايا. ابوطالب (ع) نے فوري طور پر بھائي حمزہ کو بلايا اور شمشير حمائل کرکے حمزہ سے کہا: ايک اوجڑي اٹھالاؤ اور يوں دونوں بھائي قوم قريش کي طرف روانہ ہوئے جبکہ نبي اکرم (ص) بھي ان کے ہمراہ تھے. کعبہ کے ارد گرد بيٹھے ہوئے قريش کے سرداروں کے پاس پہنچے. جب انہوں نے ہاشمي بھائيوں اور رسول اللہ (ص) کو اس حالت ميں ديکھا تو سب اپنا انجام بھانپ گئے. مؤمن قريش نے بھائي حمزہ کو ہدايت کي کہ اوجڑي کو قريشيوں کي داڑھيوں اور مونچھوں پر مل ليں. حمزہ نے ايسا ہي کيا اور آخري سردار تک کے ساتھ ہدايت کے مطابق سلوک کيا. اس کے بعد ابوطالب عليہ السلام رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جان سے پيارے بھتيجے يہ ہے آپ کا مقام و رتبہ ہمارے درميان?(10)يوں قريشي مشرکين کو اپنے کئے کي سزا ملي اور قريش کے سرغنوں نے ايک دوسرے سے کہا کہ «جب تک ابوطالب زندہ ہيں رسول اللہ (ص) کو حصول ہدف سے روک لينا، ممکن نہيں ہے.13. بيٹے کو ہدايت:جب غار حرا ميں خدا کا کلام آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم پر نازل ہؤا تو علي عليہ السلام آپ (ص) کے ہمراہ تھے چنانچہ آپ (ص) نے سب سے پہلے اپنے وصي و جانشين اور بھائي کو دعوت دي اور علي عليہ السلام نے لبيک کہتے ہوئے رسول اللہ (ص) کي امامت ميں نماز ادا کي اور جب گھر آئے تو اپنے والد کو ماجرا کہہ سنايا اور کہا «ميں رسول اللہ (ص) پر ايمان لايا ہوں تو مؤمن قريش نے ہدايت کي: «بيٹا! وہ تم کو خير و نيکي کے سوا کسي چيز کي طرف بھي نھيں بلاتے اور تم ہر حال ميں آپ (ص) کے ساتھ رہو».(11)14. واضح و روشن حمايت:جب آيت «وانذر عشيرتك الاقربين» (12) نازل ہوئي اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے اپنے رشتہ داروں کو بلا کر انہيں اپنے دين کي دعوت دي تو ان کي مخالفت کے برعکس حضرت ابوطالب عليہ السلام نے کہا: «يا رسول اللہ (ص)! آپ کي مدد اور نصرت ہمارے لئے بہت ہي زيادہ محبوب اور مقبول و پسنديدہ ہے؛ ميں آپ کي خيرخواہي کي طرف متوجہ ہوں اور آپ کي مکمل طور پر تصديق کرتا ہوں؛ جائيں اور اپني مأموريت اور الہي فريضہ سرانجام ديں؛ خدا کي قسم ميں آپ کي حفاظت کرتا رہوں گا اور کبھي بھي آپ سے جدائي پر راضي نہ ہونگا.(13)15. تہديد دشمنان رسول خدا(ص):ايک روز رسول اللہ (ص) گھر سے نکلے تو واپس نہيں ائے. حضرت ابوطالب عليہ السلام فکرمند ہوئے کہ مشرکين قريش نے کہيں آپ (ص) کو قتل ہي نہ کيا ہو؛ چنانچہ انہوں نے ہاشم اور عبدالمطلب کے فرزندوں کو اکٹھا کيا اور ان سب کو حکم ديا کہ : تيزدھار ہتھيار اپنے لباس ميں چھپا کر رکھو؛ مل کر مسجدالحرام ميں داخل ہوجاؤ اور تم ميں سے ہر مسلح ہاشمي شخص قريش کے کسي سردار کے قريب بيٹھ جائے اور جب ميں تم سے تقاضا کروں تو اٹھو اور قريش کے سرداروں کو موت کي گھاٹ اتارو.ہاشميوں نے حضرت ابوطالب کے حکم کي تعميل کي اور سب کے سب مسلح ہوکر مسجدالحرام ميں داخل ہوکر قريش کے سرداروں کے قريب بيٹھ گئے مگر اسي وقت زيد بن حارثہ نے ان کو خبر دي کہ حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کو کوئي گزند نہيں پہنچي ہے اور بلکہ آپ (ص) مسلمان کے گھر ميں تبليغ اسلام ميں مصروف ہيں چنانچہ منصوبے پر عملدرآمد رک گيا مگر مؤمن قريش ہاشمي شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرکين قريش کو رسول اللہ (ص) کے خلاف کسي بھي معاندانہ اقدام سے باز رکھنے کي غرض سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمايا: ميرا بھتيجا گھر سے نکلا اور گھر واپس نہيں آيا تو مجھے انديشہ لاحق ہوا کہ کہيں تم نے اس کو کوئي نقصان نہ پہنچايا ہو چنانچہ ميں نے تمہيں قتل کرنے کا منصوبہ بنايا? پھر انہوں نے ہاشمي نوجوانوں کو حکم ديا کہ اپنے ہتھيار انہيں دکھا ديں. قريش کے سرداروں نے کانپتے ہوئے کہا: اے اباطالب! کيا تم واقعي ہميں قتل کرنے کا ارادہ لے کر آئے تھے؟ فرمايا: اگر رسول اللہ کو تمہاري جانب سے کوئي نقصان پہنچا ہوتا تو ميں تم ميں سے ايک فرد کو بھي زندہ نہ چھوڑتا اور آخري سانس تک تمہارے خلاف لڑتا.(14)واستان از دست ديوانه سلاحتا ز تو راضي شود عدل و صلاحچون سلاح و جهل، جمع آيد به همگشت فرعوني جهان سوز از ستم



----ديوانے کے ہاتھ سے ہتھيار چھين لو
تا کہ عدل و صلاح تم سے راضي ہوجائے
جب اسلحہ اور جہل ساتھ مل جائيں
ظلم و ستم کے ذريعے جہان کو جلادينے والا فرعون جنم ليتا ہے
16. دين اسلام کے مبلغين کے حامي:سني عالم و مورخ و اديب ابن ابي الحديد معتزلي کہتے ہيں:
ولولا ابوطالب عليہ السلام وابنہلما مثل الدين شخصا وقامافذاک بمکة آوي وحاميوھذا بيثرب جس الحماما
اگر ابوطالب (ع) اور ان کا بيٹا (علي (ع)) نہ ہوتےمکتب اسلام ہرگز باقي نہ رہتا اور اپنا قدسيدھا نہ کرسکتاابوطالب (ع) مکہ ميں پيغمبر کي مدد کےلئے آگے بڑہے اورعلي (ع) يثرب (مدينہ) ميں حمايت دين کي راہ ميں موت کے بھنور ميں اترے“کثير تعداد ميں متواتر اخبار و روايات سے ثابت ہے کہ حضرت ابوطالب عليہ السلام دين مبين کي ترويج کے سلسلے ميں رسول اللہ (ص) کي مدد کيا کرتے تھے اور اپنے فرزندوں، اقرباء اور اہل مکہ کو آپ (ص) کي حمايت اور پيروي کي دعوت ديا کرتے تھے.«عثمان بن مظعون» جو سچے مسلمان تھے ايک روز کعبہ کے ساتھ کھڑے ہوکر بت پرستوں کو ان کے مذموم روش سے منع کررہے تھے اور ان کو وعظ و نصيحت کررہے تھے. قريش کے نوجوانوں کے ايک گروہ نے ان پر حملہ کيا اور ان ميں سے ايک نے عثمان پر وار کيا جس کے نتيجے ميں ان کي ايک آنكھ زخمي ہوئي.حضرت ابوطالب عليہ السلام کو اطلاع ملي تو انہيں سخت صدمہ پہنچا اور قسم کھائي کہ : جب تک اس قريشي نوجوان سے قصاص نہ لوں چين سے نہ بيٹھوں گا اور پھر انہوں نے ايسا ہي کيا. (15)17. حبشہ کے بادشاہ نجاشي کي قدرداني:جب مسلمانوں نے حبشہ کي طرف ہجرت کي تو حبشہ کے بادشاہ نجاشي نے ان کي پذيرائي کي اور ان کي حمايت و سرپرستي کہ اور قريش کے نمائندے بھي انہيں مسلمانوں کے خلاف کرنے ميں ناکام ہوئے.وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُاور جو بھي تقوائے الہي اپنائے گا خداوند متعال اس کے لئے راہ نجات فراہم کرے گا اور اس کو ايسي جگہ سے رزق و روزي عطا کرے گا جس کا وہ گمان بھي نہيں کرتا.(16)از ره پنهان كه دور از حس ماستآفتاب چرخ را بس راه هاست



-----ہمارے حس سے دور خفيہ راستے سےآفتاب فلک کے لئے بہت سے راستے ہيںابوطالب عليہ السلام کو ايک الہي فريضہ سونپا گيا تھا اور وہ ايسي عظيم شخصيت کے سرپرست تھے جو خود کائنات کے سرپرست ہيں اور انبياء کے سردار ہيں اور خدا کے بعد ان سے کوئي بڑا نہيں ہے؛ چنانچہ رسول اللہ کے دين کي ترويج بھي ان کي ذمہ داري تھي اور جو لوگ اس راستے ميں آپ (ص) کي مدد و نصرت کرتے تھے ان کي قدرداني کو بھي وہ اپنا فرض سمجهتے تھے چنانچہ جب نجاشي نے مسلمانوں کو پناہ دي تو محسن اسلام نے ان کے حق ميں اشعار لکھ کر روانہ کئے. نجاشي کو جب حضرت ابوطالب کے اشعار کا تحفہ ملا تو بہت خوش ہوئے اور انہوں نے جعفر ابن طالب (ع) کي قيادت ميں حبشہ ميں پناہ حاصل کرنے والے مسلمانوں کے احترام ميں اضافہ کيا اور ان کي پذيرائي دو چند کردي.18. رسول خدا (ص) کي حفاظت و حمايت:قريش کے تمام مشرک قبائل نے شعب ابي طالب (ع) ميں خاندان رسالت اور مسلمانوں کو مکہ سے جلاوطن کيا اور شعب ابي طالب (ع) ميں ان کي ناکہ بندي کردي. يہ ناکہ بندي معاشي، سماجي اور سياسي ناکہ بندي تھي. شعب ابي طالب اس وقت شہر مکہ سے باہر واقع ايک درہ تھا. يہ ناکہ بندي شديد ترين اقدام کے طور پر قريش کي طرف سے مسلمانوں پر ٹھونسي گئي تھي اور اس دوران پيغمبر اکرم (ص) اور آپ (ص) کے ہمراہ ديگر مسلمان و مؤمنين صرف حرام مہينوں اور ايام حج ميں بيت اللہ الحرام آسکتے تھے اور حج اور عمرہ بجالاسکتے تھے اور اسي دوران تبليغ اسلام بھي کيا کرتے تھے. اس دوران صرف حضرت ابوطالب عليہ السلام تھے جو پيغمبر کي حفاظت کرتے اور رات بهر جاگتے اور نبي اکرم (ص) کے سوني کے مقام کو تبديل کرکے اپنے بيٹے علي عليہ السلام کو آپ (ص) کے بستر پر لٹايا کرتے تا کہ اگر دشمن حملہ کرنا چاہے تو نبي (ص) کي بجائے علي قربان ہوجائيں اور ايسا عمل صرف مؤمن قريش ہي کے بس ميں تھا جو اپنے ايمان کي بنياد پر بيٹے کو بآساني رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم پر قربان کرنے کے لئے تيار ہوجاتے تھے مگر علي عليہ السلام بھي اس قرباني پر سمعاً و طاعتاً راضي و خوشنود تھے. قريش نے ايک ميثاق تحرير کي تھي جس پر ناکہ بندي کے حوالے سے متعدد نکات درج تھے اور يہ عہدنامہ کعبہ کي ديوار پر ٹانکا گيا تھا جسے ايک ديمک نے نيست و نابود کرديا تو ابوطالب عليہ السلام نماز شکر بجالانے بيت اللہ الحرام ميں حاضر ہوئے اور وہيں انہوں نے مشرکوں اور نبي اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے مخالفين کو بددعا دي اور ان پر نفرين کردي.(17)19. كلام نور ميں ابو طالب کا مقام:امام سجاد (ع) نے حضرت ابوطالب عليہ السلام کے ايمان کے بارے ميں شک کرنيے والے افراد کے جواب ميں فرمايا: عجب ہے کہ خدا اور اس کے رسول (ص) نے غير مسلم مرد کے ساتھ مسلم خاتون کا نکاح ممنوع قرار ديا جبکہ حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ عليہا – جو سابقين مسلمين ميں سے ہيں - حضرت ابوطالب عليہ السلام کے انتقال تک ان کے عقد ميں رہيں".کسي نے امام باقر(ع) کو بعض جھوٹي محدثين کي يہ جعلي حديث سنائي کہ "ابوطالب (ع) [معاذاللہ] آگ کي کھائي ميں ہيں!"امام عليہ السلام نے فرمايا: "اگر ايمان ابوطالب (ع) ترازو کے ايک پلڑے ميں رکها جائے اور ان سب لوگوں کا ايمان دوسرے پلڑے ميں تو ابوطالب (ع) کا ايمان ان سب پر بهاري نظر آئے گا"."ابان بن محمود" نامي شخص نے امام رضا عليہ السلام کو خط ميں لکها کہ "ميں آپ پر قربان جاؤں! ميں ابوطالب کے ايمان کے سلسلے ميں شک و ترديد ميں مبتلا ہوا ہوں".امام عليہ السلام نے جواب ميں تحرير فرمايا: " وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًاجو شخص حق ظاہر و آشکار ہونے کے بعد پيغمبر (ص) کي مخالفت کرے اور مؤمنوں کي راہ کے سوا کسي دوسرے راستے کي پيروي کرے ہم اسے اسي راستے پر لے چليں گے جس پر کہ وہ گامزن ہے اور اسے جہنم ميں داخل کرديں گے اور جہنم بہت ہي بري جگہ ہے"(18) اما بعد جان لو کہ اگر تم ايمان ابوطالب کا يقين نہيں کروگے تو تم بھي آگ کي طرف لوٹا دئيے جاؤگے.(19)20. ابو طالب عليہ السلام علي عليہ السلام کے والد ماجد:ابوطالب (ع) کو اللہ تعالي نے ايک ايسے فرزند سے نوازا جو زمانے کے بہترين فرزند تھے. اس فرزند کي ولادت بھي ايسي ہوئي جس کي مثال اس سے پہلے کبھي بھي نظر نہيں آئي اور بعد ميں ميں بھي نظر نہيں آئے گي. اسي بنا پر وہ اپنے نومولود فرزند کے ساتھ خاص محبت رکهتے تھے. بعثت نبي (ص) سنہ 40 عام الفيل کو واقع ہوئي اور اس وقت علي عليہ السلام کي عمر شريف کے صرف دس برس بيت گئے تھے مگر حضرت ابوطالب نے اپنے اس فرزند کے بارے ميں جو پيشين گوئياں کي ہيں وہ سب ان کے ايمان اور اعتقاد راسخ پر دلالت کرتي ہيں. انہوں نے ايک شعر کے ضمن ميں فرمايا: «علي کي ولادت کے ساتھ ہي کفر کي کمر خم ہوئي اور اس کي شمشير کے ذريعے اسلام کي بنياديں استوار اور مستحکم ہو جائيں گي" حضرت ابوطالب (ع) نے خداوند متعال سے اپنے بيٹے کے لئے نام منتخب کرنے کي درخواست کي تھي اور اسي درخواست کي بنا پر آسمانوں سے ايک «لوح لطيف» نازل ہوئي اور ابراہيم خليل عليہ و علي نبينا و آلہ السلام کے وارث و جانشين حضرت ابوطالب عليہ السلام کي آغوش ميں آپڑي. اس لوح پر لکهي ہوئي تحرير کے ذريعے حضرت ابوطالب اور حضرت فاطمہ بنت اسد عليہما السلام کو پاک و برگزيدہ فرزند کي ولادت کي خوشخبري سنائي گئي تھي اور اس فرزند کا نام «علي» رکها گيا تھا.(20)21. غم ہجران:شعب ابي طالب (ع) ميں ناکہ بندي کے دوران مؤمن قريش کو شديد صعوبتيں جهيلني پڑيں اور شديد دباؤ اور مشکلات سہہ لينے کي وجہ سے حضرت ابوطالب کمزور ہوگئے چنانچہ ناکہ بندي کے خاتمے کے چھ مہينے بعد بعثت نبوي کے دسويں برس کو حضرت ابوطالب عليہ السلام وفات پاگئے جس کي وجہ سے حضرت رسول اللہ (ص) کو شديد ترين صدمہ ہوا اور بے تاب ہوکر اپنے چچا اور غمخوار کے سرہانے تشريف فرما ہوئے اور ان کے چہرے پر اپنے مقدس ہاتھ پھير پھير کر فرمايا: چچا جان! آپ ني بچپن ميں ميري تربيت کي؛ ميري يتيمي کي دور ميں آپ نے ميري سرپرستي کي اور جب ميں بڑا ہؤا تو آپ نے ميري حمايت اور نصرت کي؛ خداوند متعال ميري جانب سے آپ کو جزائے خير عطا فرمائے. ميت اٹھي تو رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم جنازے سے آگے آگے قبرستان کي طرف روانہ ہوئے اور راستے ميں بھي محسن اسلام کے لئے دعائے خير فرماتے رہے.(21)22. اشعار ابو طالب عليہ السلام:آخر ميں حضرت ابو طالب عليہ السلام کي پر مغز اشعار کے کچھ ابيات پيش کئے جارہے ہيں جن سے کسي حد تک خدا اور اس کے رسول (ص) پر ان کي ايمان راسخ اور اعتقاد عميق کا اندازہ کيا جاسکتا ہے:
و الله لا اخذل النبي و لايخذله من بني ذو حسباللہ کي قسم کہ ميں نبي (ص) کو تنہا نہيں چهوڑوں گا اورميرے فرزندوں ميں سے بھي کوئي با شرف آپ (ص) کو تنہا نہ چهوڑے گا.انہوں نے حبشہ کي بادشاہ کو اشعار کا تحفہ بھيجا تو ان اشعار کے ذريعے انہوں نے رسول اللہ (ص) پر اپنے ايمان و اعتقاد کے علاوہ انبياء سلف علي نبينا و عليہم السلام کے بارے ميں بھي اپنے ايمان و اعتقاد کي وضاحت کي اور نجاشي کو مسلمانوں کي زيادہ سے زيادہ حمايت کي ترغيب دلائي:تعلم مليك الحبش إن محمدانبي كموسي و المسيح ابن مريمإتانا بهدي مثل ما اتيا بهفكل بإمر الله يهدي و يعصم(22)-----اي حبشہ کے بادشاہ جان لے کہ بتحقيق محمد (ص)نبي ہيں جيسے کہ موسي اور عيسي ابن مريم نبي ہيںوہ ہمارے پاس ہدايت لے کر آئے جيسا کہ وہ دونوں لائے تھےپس تمام انبياء الہي خدا کے فرمان پر امتوں کي راہنمائي کرکے انہيں پليديوں اور گناہوں سے بچاليتے ہيںابوطالب علي عليہ السلام رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے ساتھ اپني وفاداري اور آپ (ص) کي حمايت کا يوں اظہار فرماتے ہيں:والله لن يصلوا اليك بجمعهمحتي اوسد في التراب دفيناو ذكرت دينا لا محالة انهمن خير اديان البرية دينا(23)-----اللہ کي قسم! کہ ان کا ہاتھ - سب مل کر بھي – آپ تک نہ پہنچ سکے گاجب تک کہ ميں زمين کے سينے ميں دفن نہ ہؤا ہوںاور جو دين آپ لائے ہيں اور آپ نے اس کي يادآوري فرمائي ہےبے شک و ناگزير انسانوں کے لئے بھيجے گئے اديان سے بہترين ہے
مآخذ:
1. بحارالانوار، ج 35، ص121.
2. ينابيع المودة، قندوزي حنفي، ج2، ص 10.
3. صحيح بخاري، ج 3، ص 196.
4. مجالس المومنين، قاضي نور الله شوشتري ،ج 1، ص 163.
5. السيرة الحلبية، ج 1، ص 125،شرح نهج البلاغة، ج 3، ص 316،الملل و النحل، شهرستاني پاورقي،ص 255.
6. اصول كافي، شيخ كليني، كتاب الحجة ،باب تولد اميرالمومنين، ص 301.
7. امام علي صداي عدالت انساني، جرج جرداق، ترجمه سيدهادي خسروشاهي، ج1 . 2، ص 74.
8. تاريخ انبيإ، ج3، سيدهاشم رسولي محلاتي، ص 76.
9. تاريخ طبري ،ج 2، ص 229.
10. الکافي ج1 ص 449?



11. امام علي صداي عدالت انساني، ج 1.2، ص 77 . 78.
12. شعرا، 214.
13. الكامل، ابن اثير، ج 2، ص 24.
14. طرائف، ص 85 و طبقات كبري، ابن سعد، ج 1، ص 302.303.
15. شرح نهج البلاغة،ج 3، ص 313.



16. سوره طلاق آيات 2 و 3.
17. الغدير، ج 7، ص 364 والكامل في التاريخ، ج 2، ص 71.
18. نسإ، 115.
19. الغدير، ج 7، ص 36.
20. مناقب ،ابن شهر آشوب ،ج 2، ص 175.
21. تاريخ انبيإ، ج 3، ص 218.
22. بحار الانوار، ج 35، ص 122 . 123.
23. بحار الانوار، ج 35، ص 122 . 123.