Wednesday, 26 March 2014
Friday, 14 March 2014
غلاۃ کی خیانت اور امام صادق ع پر جھوٹ باندھنا
غلاۃ کی خیانت اور امام صادق ع پر جھوٹ باندھنا
غلاۃ اور خونی ماتم کے حق میں فاسد تاویل کرنے والے اب اس قدر آگے پڑھ چکے ہیں کہ انھوں نے خونی ماتم جیسی بدعت کے جواز کے لئے آئمہ اھل بیت ع پر جھوٹ باندھنا شروع کر دیا ہے اور آئمہ اھل بیت ع کی احادیث مبارکہ میں تحریف کر کے اپنے مقصد کو حاصل کیا جا رہا ہے اور عوام الناس کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔
حال ہی میں ایک روایت غلاۃ کی جانب سے وسائل الشیعہ کا حوالہ دے کر خونی ماتم کا جواز ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے ۔
ہم سب سے پہلے غلاۃ کی تحریف شدہ روایت نقل کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کا رد بلیغ پیش کریں گے
غلاۃ کی تحریف شدہ روایت :
على مثل الحسين فلتشق الجيوب ، "ولتخمش الوجوه "، ولتلطم الخدود۔ راجع وسائل الشيعة ج 15 ص 583 نقلا عن تهذيب الطوسي
امام صادق ع فرماتے ہیں کہ حسین ع جیسی شخصیت کے لئے تم پر لازم ہے کہ اپنا گریبان چاک کروں ،"اپنے چہرے کو نوچ لو "اور اپنے رخساروں کو پیٹو
اس کے بعد غلاۃ کہتے ہیں کہ خمش والوجوہ کا مطلب یہ ہے کہ چہرے کو اتنا نوچو کہ خون نکل آئے۔۔۔
نوٹ : غلاۃ کی تحریف شدہ روایت اور ان کا باطل استدلال تصویر میں دیکھ سکتے ہیں
ہمارا رد :
چونکہ غلاۃ نے وسائل الشیعہ کا حوالہ دیا تھا ، چنانچہ جب ہم نے وسائل الشیعہ کی طرف رجوع کیا تو معاملہ بالکل ہی برعکس تھا ، وہاں پر امام صادق ع کی روایت تو موجود تھی مگر اس میں خاص وہ الفاظ "خمش الوجوہ" یعنی اپنے چہرے کو نوچ لو ، والے الفاظ بالکل موجود نہیں تھے جس سے غلاۃ خونی ماتم جیسے فاسد عمل پر استدلال کر رہے تھے ، اب ہم مکمل روایت وسائل الشیعہ سے بمع سکین صفحہ نقل کرتے ہیں تاکہ غلاۃ کی خیانت واضح ہو جائے ، مکمل روایت اس طرح ہے :
وقد شققن الجيوب ولطمن الخدود الفاطميات على الحسين بن علي عليهما السلام ، وعلى مثله تلطم الخدودوتشق الجيوب .
ترجمہ
امام جعفر صادق ع فرماتے ہیں کہ جناب السیدہ فاطمہ زھراء ع کی بیٹیوں نے امام حسین ع کی مصیبت پر گریبان چاک کئے تھے اور رخساروں پر تھپڑ مارے تھے اور ایسے مظلوم پر رخساروں پر تھپڑ مارنے چاہئیں اور گریبان چاک کرنے چاہیئں ۔
وسائل الشیعہ // حرالعالملی // ج 15 //ص 304 // طبع 2007 بیروت
شیخ طوسی رہ نے بھی تہذیب میں اس روایت کو جزما نقل کیا ہے اور اس میں بھی "خمش الوجوہ " والی الفاظ نہیں ہیں ۔
اب ہم غلاۃ جنہوں نے روایت میں تحریف کی اور امام صادق ع پر جھوٹ باندھا ان سے سوال کرتے ہیں کہ بتائوں ! اصل ماخذ میں " "خمش الوجوہ ' یعنی اپنے چہرے کو نوچ لو ، والے الفاظ کہاں ہیں ۔ کچھ خدا کا خوف کروں ، اپنی نفسانی خواہشات پر اتنا عمل نہ کرو کے آئمہ اھل بیت ع پر جھوٹ باندھنے لگ جائو ، لیکن کیا کہہ سکتے ہیں کیونکہ آئمہ اھل بیت ع نے خود ہی سچ کہا ہے کہ
امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں : بعض غالی اس قدر جھوٹے ہیں کہ شیطان کو بھی ان کے جھوٹ کی ضرورت پڑ جاتی ہے
سفینتہ البحار//شیخ عباس قمی // ج 6 // ص 667// طبع قم ایران
اگر غلاۃ کہے جیسا کہ تصویر میں غالی نے کہا بھی ہے کہ فقہاء نے خونی ماتم کے جواز کے لئے اس روایت سے استدلال کیا ہے جس میں "خمش الوجوہ " یعنی اپنے چہرے کو نوچ لو والے الفاظ ہیں ، تو ہم ان غلاۃ سے یہ ہی کہے گے کہ سب سے پہلے ہم کو اصل ماخذ سے دلیل کو دیکھنا ہے ، جب اصل ماخذ میں وہ الفاظ ہی نہیں ہیں تو ان فقہاء کا استدلال باطل ہے کیونکہ اصل ماخذ میں ، امام صادق ع کی روایت میں ان الفاظ کا وجود نہیں ہے ۔ چنانچہ فتویٰ کی بنیاد ، دلیل ہوتی ہے ، جب دلیل ہی باطل اور تحریف شدہ روایت پر قائم ہے تو وہ تمام فتویٰ جو اس خاص تحریف شدہ روایت کے ضمن میں دیے گئے ہیں وہ تمام کے تمام باطل ، غیر قول احسن ہیں اور ان پر عمل کرنا حرام ہے ۔
آخر میں ، میں ان تمام عوام الناس سے اپیل کروں گا کہ فیس بک پر ، نیٹ پر کوئی بھی قول رسول و آئمہ اھل بیت ع کو نقل کرنے سے پہلے ، اس قول کی تصدیق اصل ماخذ سے لازمی کر لیا کریں ، یا کسی ایسے اھل علم سے پوچھ لیا کریں کہ یہ روایت صحیح ہے کہ نہیں ، ورنہ رسول اللہ ع و آئمہ اھل بیت ع پر جھوٹ باندھنے کے ضمن میں ہم دائرے ایمان سے خارج ہو سکتے ہیں ۔
جناب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ : قال المسيح (عليه السلام): مثل الدنيا والآخرة كمثل رجل له ضرتان ، إن أرضى إحداهما سخطت الاخرى ، دنیا اور آخرت کی مثال ایک ایسے شخص کی طرح ہے جس کی دو بیویاں ہو اگر ایک کو راضی کرے تو دوسری ناراض ہوجاتی ہے ( مشكاة الأنوار ، الشيخ الطبرسي ، جلد : 1 صفحه : 467 )اور اسی طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی طرف بھی ہے کہ : الدنيا والآخرة ضرتان إن ملت إلى إحداهما أضررت بالأخرى، وبينهما في الجمال والكمال والدوام أبعد مما بين المشرق والمغرب ، کہ دنیا و آخرت دو بیویوں کی طرح ہے اگر ایک کی طرف آدمی جھکے گا تو دوسری ناراض ہوجاتی ہے ، دنیا و آخرت کے کمال و جمال ایسے فرق و فاصلہ ہے جیسے مشرق اور مغرب کے درمیان ہے (موسوعة فقه القلوب للشيخ محمد بن إبراهيم التويجري. الجزء الأول ، صفحہ ٦٢٠ )
مولاعلیعلیہ السلام نے فرمایا ہے : ان الدنیا و الآخره عدو ان متفاوتان و سبیلان مختلفان فمن احب الدنیا و تولاها ابغض الآخره و عاداها و هما بمنزله المشرق و المغرب و ماش بینهما كلما قرب من واحد بعد من الآخر و هما بعد ضرتان، نهج البلاغه، حكمت 103.
بیشک دنیا اور آخرت دو مختلف دشمن ہیں ، اور دو مختلف راستے جس نے دنیا سے محبت کی وہ آخرت سے دشمنی کرے گا ان دونوں کے درمیاں مشرق و مغرب کے جیسا فاصلہ ہے اور ان کی طرف جانے والا ایک طرف جاتا ہے تو دوسری جھت و دوسرے طرف سے سے دور ہوتا جاتا ہے ، یہ دونوں دو بیویوں ( سوکن ) کی طرح فاصلہ ہے
*ابن طاوس اور شہادت زھرا علیھا السلام*
بمسہ رب فاطمہ علیھا السلام
ابن طاوس اپنی اقبال میں ایک زیارت نقل کرتے ہیں جسکے الفاظ کچھ اسطرح ہیں ،
"درود ہو بتول طاہرہ پر ...........مظلومہ پر ،جسکا حق غصب ہوا ، جسکی وراثت چھینی گئی جسکی پسلیاں شہید ہوئی جسکے فرزند کو شہید کیا گیا "
عربی عبارت : اللّهمّ صلّ على محمّد وأهل بيته، وصلّ على البتول الطاهرة، الصدّيقة المعصومة، التقيّة النقيّة، الرّضيّة المرضيّة، الزكيّة الرشيدة، المظلومة المقهورة، المغصوبة حقّها، الممنوعة إرثها، المكسورة ضلعها، المظلوم بعلها، المقتول ولدها
-الإقبال لابن طاووس // صفحہ ٦٢٥//
حضرت زھراء سلام اللہ علیہا ایک پرافتخار هستی
انا اعطیناک الکوثر:فصل لربک وانحر ان شانئک ھو الابتر۔ہم نے تجھے کوثر عطا کیا پس اپنے پروردگار کے لیے نماز ادا کراور قربانی کر بتحقیق تیرا دشمن دم بریدہ رہیگا۔زھراء وہی کوثر ہے ،رسول (ص):خداوند انکے ناراض ہونے سے ناراض ہوجاتاہےاور انکے خوشنود ہونے سے خوشنود ہوجاتاہےفاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو اسے اذیت دے وہ مجھے اذیت دیتاہے ۔اور ان سے دوستی رکھے وہ مجھے سے دوستی رکھتاہے ۔فاطمہؑ میرا دل ہے ، فاطمہ میری روح ہے ۔فاطمہؑ دوجہانوں کی خواتین کی سردار ہیں۔زھراء وہ نمونہ ہے ، وہ دل ہے ، وہ روح ہے ۔زھراء مایۂ افتخار ہیں۔جس دنیا میں ہم رہتے ہیں،ماضی سے اب تک انسانوں اپنی فکرونگاہ کے حساب سے بعض اشیاء کو یا بعض اشخاص کو مایہ فخر جانتے ہیں۔امام خمینی فرماتے ہیں کہ زھراءؑ ہمارے لیےمایۂ افتخار ہیں۔زھراء ایسی خاتون ہے جو عالم ہستی کے لیے مایۂ افتخار ہے ۔کہ وہ عالمین کی خواتین کی سردار ہیں۔زھراء کے وجود پہ خدافخرکرتاہے۔اور فرشتوں سے فرماتاہے ، کہ دیکھو میرے فرشتو محراب عبادت میںمیری کنیز خاص کیسی کھڑی عبادت کررہی ہیں؟خداکو فخرہے کہ میں زھراءؑ جیسی کنیز خاص کا خالق ہوں۔زھراء خاندان وحی مایۂ افتخار ہیں۔تاریخ پیغمبر اسلامؐ کے بے حد وحساب احترامات کی گواہ ہےجو اس بی بی کے لیے رسول انجام دیا کرتے تھے ۔رسول فخرکرتے ہیں کہ زھراءؑ جیسی میری بیٹی ہے ۔علی کو فخرہے کہ زھرا ء انکی ہمسرہیں۔انا زوج البتول کہہ کر علی فخرکرتے ہیں ۔و أنا زوج البتول : سیدۃ نساء العالمین .میں ہمسر زھراءؑ ہو جو عالمین کی خواتین کی سرادار ہیں۔فاطمۃ التقیۃ النقیۃ الزكية ، المبرة المھدیۃ .وہ جو فاطمہ ہیں پاک وپاکیز ، ہدایت یافتہ ہیں۔حبیبۃ حبیب اللہ وہ جو حبیب خدا کی حبیبہ ہیں ،و خير بناتہ و سلالتہ وہ حبیب خدا کی بہترین بیٹی ہے ۔و ریحانۃ رسول اللہ وہ جو رسول خداکی خوشبوہیںزھراءؑ :وہی ہمسر، وہی حبیبہ،وہی بیٹی اور وہی خوشبوہے ۔حسین:ؑ فخرکرتے ہیں کہ زھراء کے فرزند ہیں۔حبیب ابن مظاہر کو خط میں لکھامن حسین ابن فاطمہحبیب میں فرزند میں حسینؑ فرزند فاطمہ تجھے خط لکھ رہاہوں۔حضرت مھدی موعود عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف جو اپنے ظہورپرنور سےکائنات ہستی کو نور ایمان واسلام وقرآن سے روشن کرینگے ۔سراسر ہستی کو عدل وانصاف اسلامی سے بھر دینگے ۔وہ موعود فرماتے ہیں: فی اِبنۃ رسولِ اللہ لی اسوۃٌ حسنۃٌ
میرے لیے بنت رسول بہترین نمونہ ہیں۔ (غیبت طوسی /۲۸۶)زھراء وہ بانوی نمونہ ہیں جو سرمشق مھدی موعودؑ ہیں۔خواتین کےلیے فخرکی بات ہے کہ ایام فاطمیہ کو خواتین کے دنکے عنوان سے پرجوش وخروش طریقے سے منائیں۔اور ان دنوں کو روز مادر، روز دختر وروز ہمسر قرار دیں ۔زھراء:ؑ تجلی کمال کا نام ہے ۔تمام ہویت انسان زھراءؑ میں جلوہ گر ہے ۔وہ تمام ابعاد وجہات جو ایک خاتون کے لیےاور ایک انسان کے لیے متصور ہوسکتاہے بہ تمام وکمال زھراءؑ میں جلوہ گرہیں۔زھراءؑ :ایک انسان ہیں ، بہ تمام معنی انسان ۔زھراءؑ :ایک نسخہ انسانیت ہے ، بہ تمام معنی۔زھراءؑ :ایک حقیقت زن ہے ، تمام حقیقتِ زن۔زھراءؑ : تمام حیثیت زن ہے ، تمام شخصیت زن۔وہ تمام کمالات جو ایک انسان کامل کے لیے تصور ہوسکتاہےسب کے سب اس خاتون میں بہ تمام موجود ہیں۔نور زھراءؑ خلقت بشر سے پہلے خلق ہوا۔خلقت آدم سے چودہ ہزار سال پہلے ۔زھراءؑ :ایک ملکوتی موجود ہیں جو انسان کی شکل میں ظاہر ہواہے۔رسول (ص) : وھی حوراء إنسيّۃفاطمہؑ انسان کی شکل میں ایک حورھیں۔زھراءؑ وہ انبیاء صفت خاتون ہیں جن پہ جبریل نازل ہوتے ھیںنہ ایک بار بلکہ معصوم فرماتے ھیں کہ بارھا وبارھا نازل ھوتے تھےیہ صفت طبقہ اول انبیاء کی ھے کہ بار ھا وبارھا جبریل نازل آتے تھے۔جبریل کا کسی پہ نازل ہونا ایک سادہ سی بات نہیں ھے۔جبریل جوکہ روح اعظم ہے اس میں اس جس کے پاس جبریل نازل ھواس کی روح میں ایک قسم کاتناسب ھونا لازمی ھے۔امام خمینی فرماتے ھیں کہ میں زھراءؑ کی اس فضیلت کو زھراء (س)تمام فضائل سے بالاتر سمجھتاہوں۔یہ وہ فضائل ھیں جو مختص ھیں حضرت زھراءؑ سے ۔
کسی پر لعنت کرنا ۔۔
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ۔۔
گسی کو گالی دینا ۔۔۔۔۔۔ کسی پر لعنت کرنا ۔۔
یہ دو الگ باتیں ہيں ۔۔۔۔ پہلی بات کسی کو گالی دینے سے کا حکم میرے ذہن میں کہیں پر نہيں ہے ۔ اور خاص کر کے کسی مومن کو گالی دینا تو برا ہے اور گناہ بھی ہے ۔۔۔
لیکن لعنت کرنا ۔ یہ اس کا حکم قران میں ہے اور اگر میں قران سے اس پر ایات اکٹھی کرنا شروع ہو جاؤں تو شاید اتنا ہو جائيں کہ اپ لوگ پڑھیں نا ۔ یہ سوچ کر کے یہ تو بہت بڑا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔
اگر کوئی کسی کو گالی دیتا ہے تو اس میں ایک بات جو صاف اتی وہ یہ کہ اس سے اسی کی ذاتی دشمنی ہے یا وہ ذاتی طور پر اس کو برا جانتا ہے لیکن اس کا غیر مسلم ہونا ۔۔ اس بات میں نہيں اتا ۔ کہ اگر میں کسی کو گالی دوں تو یہ بات نہیں کہ مہ کافر ہے تو گالی دی ہے ۔۔
لیکن لعنت ۔۔ لعنت کسی بھی مومن پر مسلم پر نہيں کی جاسگتی کیوں کہ میرے علم میں کوئی بھی ایک بھی حدیث یا ایت نہيں ہے جو کسی مومن یا مسلم پر لعنت کرنے کا حکم دیتی ہو ۔
اور میرا کسی پر لعنت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس کو مومن مسلم نہیں سمجھتا۔۔
ناصبیوں کا ایک دعوی جو صرف اور صرف اپنے دل کی تسکین کے لیے لگایا جاتا ہے ۔۔
علی عـ معاویہ بھائی بھائی ۔۔۔۔۔
اب میں حیران ہوں کہ یہ لوگ کس بناء پر یہ نعرہ لگاتے ہيں ۔۔۔ یہ خود جانتے ہیں ۔۔
پہلی بات یہ ہے کہ معاویہ امام علی عـ کو برا بھلا کہتا تھا گالیاں دیتا تھا اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتا تھا ۔۔۔
پہلا ثبوت ۔۔
صحیح مسلم، کتاب الفضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب
- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي ۔۔۔
- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي ۔۔۔
ترجمہ:
معاویہ نے سعد کو حکم دیا [أَمَرَ مُعَاوِيَةُ] اور کہا کہ تمہیں کس چیز نے روکا ہے [مَا مَنَعَكَ] کہ تم ابو تراب [یعنی علی ابن ابی طالب] پر سب نہ کرو [سب: گالیاں دینا ، برا بھلا کہنا]۔ اس پر سعد نے کہا میں نے رسول ص سے علی کے متعلق تین ایسی باتیں سنی ہیں کہ جس کے بعد میں کبھی علی پر سب [گالیاں دینا، برا بھلا کہنا] نہیں کہہ سکتا ۔۔۔
معاویہ نے سعد کو حکم دیا [أَمَرَ مُعَاوِيَةُ] اور کہا کہ تمہیں کس چیز نے روکا ہے [مَا مَنَعَكَ] کہ تم ابو تراب [یعنی علی ابن ابی طالب] پر سب نہ کرو [سب: گالیاں دینا ، برا بھلا کہنا]۔ اس پر سعد نے کہا میں نے رسول ص سے علی کے متعلق تین ایسی باتیں سنی ہیں کہ جس کے بعد میں کبھی علی پر سب [گالیاں دینا، برا بھلا کہنا] نہیں کہہ سکتا ۔۔۔
اس میں امام علی عـ پر سب کرنے کا حکم موجود ہے ۔۔
دوسرا ثبوت ۔۔
ابن کثیر الدمشقی، کتاب البدایہ و النہایہ، حلد7، صفحہ341، باب فضائل علی ابن ابی طالب
وقال أبو زرعة الدمشقي: ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد، ثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن أبيه قال: لما حج معاوية أخذ بيد سعد بن أبي وقاص.فقال: يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك.قال: فلما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره، ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه.فقال: أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك،ثم وقعت في علي تشتمه ؟والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال حين غزا تبوكاً ((إلا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي ؟))أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر: ((لأعطين الراية رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه، ليس بفرار)) (ج/ص: 7/377)أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس، ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها الولد ماله أحب إليّ من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، لا أدخل عليك داراً بعد هذا اليوم، ثم نفض رداءه ثم خرج.
وقال أبو زرعة الدمشقي: ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد، ثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن أبيه قال: لما حج معاوية أخذ بيد سعد بن أبي وقاص.فقال: يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك.قال: فلما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره، ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه.فقال: أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك،ثم وقعت في علي تشتمه ؟والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال حين غزا تبوكاً ((إلا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي ؟))أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر: ((لأعطين الراية رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه، ليس بفرار)) (ج/ص: 7/377)أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس، ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها الولد ماله أحب إليّ من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، لا أدخل عليك داراً بعد هذا اليوم، ثم نفض رداءه ثم خرج.
ترجمہ:
ابو زرعہ الدمشقی عبداللہ بن ابی نجیح کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ نے حج کیا تو وہ سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑ کر دارالندوہ میں لے گیا اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی ابن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے انکی عیب جوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا: "آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا،پھر آپ نے علی ابن ابی طالب کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دیا۔خدا کی قسم، اگر مجھے علی کے تین خصائص و فضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ نبی اللہ ص نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا جب کہ آنحضور ص غزوہ تبوک پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا:"کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی سوائے ایک چیز کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تر ہے۔ پھر کاش کہ میرے حق میں وہ بات ہوتی جو آنحضور ص نے خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی تھی کہ "میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول ص اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ بھاگنے والا نہیں [غیر فرار]۔ یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تر ہے۔ اور کاش کہ مجھے رسول ص کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور آنحضور ص کی صاحبزادی سے میرے ہاں اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے، تو یہ چیز بھی میرے لیے دنیا و مافیہا سے عزیز تر ہوتی۔ آج کے بعد میں تمہارے گھر کبھی داخل نہ ہوں گا۔ پھر سعد بن ابی وقاص نے اپنی چادر جھٹکی اور وہاں سے نکل گئے۔"
ابو زرعہ الدمشقی عبداللہ بن ابی نجیح کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ نے حج کیا تو وہ سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑ کر دارالندوہ میں لے گیا اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی ابن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے انکی عیب جوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا: "آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا،پھر آپ نے علی ابن ابی طالب کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دیا۔خدا کی قسم، اگر مجھے علی کے تین خصائص و فضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ نبی اللہ ص نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا جب کہ آنحضور ص غزوہ تبوک پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا:"کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی سوائے ایک چیز کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تر ہے۔ پھر کاش کہ میرے حق میں وہ بات ہوتی جو آنحضور ص نے خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی تھی کہ "میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول ص اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ بھاگنے والا نہیں [غیر فرار]۔ یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تر ہے۔ اور کاش کہ مجھے رسول ص کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور آنحضور ص کی صاحبزادی سے میرے ہاں اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے، تو یہ چیز بھی میرے لیے دنیا و مافیہا سے عزیز تر ہوتی۔ آج کے بعد میں تمہارے گھر کبھی داخل نہ ہوں گا۔ پھر سعد بن ابی وقاص نے اپنی چادر جھٹکی اور وہاں سے نکل گئے۔"
اس میں معاویہ کا امام علی عـ پر گالیاں دینا موجود ہے ۔۔
اس سے ایک بات صاف ہوتی ہے کہ معاویہ امام علی عـ سے نفرت کرتا تھا ۔۔ ان کو برا جانتا اور مانتا تھا اس لیے ایسا کیا کرتا تھا ۔۔
اب کیوں کرتا تھا وغیرہ وغیرہ ۔۔ ان باتوں کا تذکرہ کرنے جتنا وقت نہيں ۔۔۔
اب ہم دیکھتے تھے کہ امام علی عـ کے نزدیک معاویہ ۔ کیسا تھا ۔۔۔
إبن أبي شيبة - المصنف - الجزء : ( 2 ) - رقم الصفحة : ( 216 )
6947 - حدثنا : هشيم ، قال : ، أخبرنا : حصين ، قال : ، حدثنا : عبد الرحمن بن معقل قال : صليت مع علي صلاة الغداة ، قال : فقنت فقال في قنوته : اللهم عليك بمعاوية وأشياعه وعمرو بن العاص وأشياعه وأبا السلمي وأشياعه وعبد الله بن قيس وأشياعه.
--------------------------------------------------------------------------------
المتقي الهندي - كنز العمال - الجزء : ( 8 ) - رقم الصفحة : ( 82 )
21989 - عن عبد الرحمن بن معقل قال : صليت مع علي صلاة الغداة ، فقنت فقال في قنوته : اللهم عليك بمعاوية وأشياعه ، وعمرو بن العاص وأشياعه ، وأبي الأعور السلمي وأشياعه ، وعبد الله بن قيس وأشياعه.
ان دو حدیثوں میں ایک بات اتی ہے کہ امام علی عـ معاویہ اور اس کے شیعوں پر قنوت میں لعنت کرتے تھے ۔۔۔۔
1 لعنت کرنا اور وہ بھی امام علی عـ کا امام علی عـ جن کے بارے میں ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی عـ اس کا دروازہ ۔
یہ ثابت کرتا ہے کہ امام علی عـ معاویہ کو قطعی مومن یا مسلم نہيں سمجھتے تھے اس لیے لعنت کرتے تھے ۔
2 ۔۔ اور لعنت کرنے کا انداز مطلب قنوت میں لعنت کرنا ۔۔۔ یہ طریقہ کار بھی نبی صـ کا ہے انہوں نے کافروں کے لیے قنوت میں بدعا کی تھی ۔ روایت نقل کرتا ہوں ۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ الْقُنُوتِ. قَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ. فَقُلْتُ إِنَّ فُلاَنًا يَزْعُمُ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ كَذَبَ. ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ـ قَالَ ـ بَعَثَ أَرْبَعِينَ أَوْ سَبْعِينَ ـ يَشُكُّ فِيهِ ـ مِنَ الْقُرَّاءِ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَعَرَضَ لَهُمْ هَؤُلاَءِ فَقَتَلُوهُمْ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَهْدٌ، فَمَا رَأَيْتُهُ وَجَدَ عَلَى أَحَدٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ.
میں نے انس رضی اللہ عنہ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہئے ، میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب ( محمد بن سیرین ) تو کہتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ رکوع کے بعد ہوتی ہے ، انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا تھا کہ انہوں نے غلط کہا ہے ۔ پھر انہوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعا قنوت کی تھی ۔ اور آپ نے اس میں قبیلہ بنوسلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کی تھی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت ، راوی کو شک تھا ، مشرکین کے پاس بھیجی تھی ، لیکن بنوسلیم کے لوگ ( جن کا سردار عامر بن طفیل تھا ) ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا ۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ تھا ۔ ( لیکن انہوں نے دغا دی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ رنجیدہ تھے
میں نے انس رضی اللہ عنہ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہئے ، میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب ( محمد بن سیرین ) تو کہتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ رکوع کے بعد ہوتی ہے ، انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا تھا کہ انہوں نے غلط کہا ہے ۔ پھر انہوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعا قنوت کی تھی ۔ اور آپ نے اس میں قبیلہ بنوسلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کی تھی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس یا ستر قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت ، راوی کو شک تھا ، مشرکین کے پاس بھیجی تھی ، لیکن بنوسلیم کے لوگ ( جن کا سردار عامر بن طفیل تھا ) ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا ۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ تھا ۔ ( لیکن انہوں نے دغا دی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ رنجیدہ تھے
اس کا ان لائن لنک یہاں پر ہے ۔۔۔
اب ان باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاویہ ایک تو بد ذبان تھا لیکن وہ ۔ امام علی عب کے نذدیک کافر بھی تھا ۔۔۔
اب وہ لوگ جو ایک کافر منکر فاسق کو امام علی عـ سے ملاتے ہیں اور اپنے دل کو تسلیاں دیتے ہیں ۔۔۔۔
ان کے لیے امام علی عـ کا ایک اور قول نقل کرتا ہوں ۔۔۔
کنزالعمال ۔ حصہ یازدہم ۔ ص 117
امام علی عـ نے فرمایا ۔ جو ہم میں اور ہمارے دشمن میں برابری کرے اس کا ہم سے کوئي تعلق نہین ۔۔ ۔
لنک ۔۔
اب ناصبیوں سے گزارش ہے کہ یا تو اپنی اصلاح کریں یا پھر امام علی عـ سے محبت کے جھوٹے دعوی کو }ختم کریں ۔۔
طالـــــــــــــب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دعـــــــــــا ۔ طاہــــــــــــــــــــر عباس جعفری۔۔۔۔۔۔
Friday, 7 March 2014
عظمت تسبیح حضرت زہراء سلام اللہ علیہا
سید عرفان نقوی( نزیل مشہد مقدس)برادر محترم سید شہنشاہ حسین نقوی کے حکم پر لکھا گیا
بزرگی و عظمت خداوند متعال کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ صرف وہی ذات ہے جو ہر کمال کی حامل ہے جسے جامع کمالات کہا جاتا ہے ، اور جو چیز تمام کمالات و فضائل کی حامل ہو وہی تسبیح و عبادت کی حقدار و سزاوار ہے ۔قرآن کریم میں جہاں استغفار و توکل کا حکم آیا ہے وہیں پر تسبیح کرنے کا بھی حکم موجود ہے اورمجموعی طور پر تسبیح کے مادے یعنی ’’ سبح ، تسبح ، سبحان ، و دوسرے مشتقات کے ساتھ 92 بار قرآن میں ذکر ہوا ہے ( تفصیل دیکھنے کے لئے رجوع کریں معجم المفھرس لالفاظ القرآن الکریم ، محمد فواد عبد الباقی صفحہ 430 پر ) اور قرآن میں تسبیح کرنے کا حکم 18 بار آیا ہے 13 مرتبہ سَبِّح کے صیغے کے ساتھ ، سَبِّحہُ ۳ مرتبہ اور جمع کے صیغے سَبِّحوا کے ساتھ ۲ مرتبہ ، اس سے تسبیح کی اہمیت اور عظمت ظاہر ہوتی ہے ۔
تسبیح کی لغت میں معنی :راغب اپنی مفرادات میں مادہ سبح کی معنی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : السبح: المر السريع في الما و في الهواء یعنی پانی یا ہوا میں جلدی ڈوب جانا یا چلے جانااصطلاح میں تین ۳ معنائوں میں استعمال ہوتا ہے1 - تنزیہ یعنی خداوند متعال کو ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ جاننا :اللہ ان تمام باتوں سے پاک و پاکیزہ ہے(مومنون/91، انبياء/12، صافات/159و180، زخرف/82، انعام/100)خدا ان کے شرک سے پاک اور بلند و برتر ہے(طور/43، قصص/68، توبه/31، يونس/18، نحل/1، روم/40، زمر/67، حشر/23)2 - حمد اور تعریف تنزیہ کے ساتھ :پس پاک و بے نیاز ہے وہ خدا جس کے ہاتھوں میں ہر شے کا اقتدار ہے اور تم سب اسی کی بارگاہ میں پلٹا کر لے جائے جاؤ گے۔(زخرف/13، بقره/32، آل عمران/191، اعراف/143، فرقان/18، يس/83، سبأ/41)3- تعجب اور تعظیم تنزیہ کے ساتھ :خدایا تو پاک و بے نیاز ہے اور یہ بہت بڑا بہتان ہے(نور/16، اسري/1)ان موارد میں جو معنی سب میں مشترک ہے وہ خداوند متعال کو ہر عیب و ریب سے پاک قرار دینا ہے جو خداوند متعال کی اصلی حمد و تعریف و تسبیح ہے ، اور یہ وہ خاص معنی ہے جو مطلوب خداوند ی ہے اسی وجہ سے خداوند متعال نے قرآن میں اپنی تسبیح یعنی اس کو ہر عیب سے منزہ قرار دینے کا حکم دیا ہے اور اس حکم کی پابندی ہر مخلوق پر واجب ہے ارشاد ہوتا ہے : تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ، آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اس کی تسبیح کررہے ہیں اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جو اس کی تسبیح نہ کرتی ہو یہ اور بات ہے کہ تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ہو ۔
تسبیخ کیوں کرنی چاہئے ؟اگر ہم کسی چیز کو دل سے چاہتے ہیں اور اس سے والہانہ محبت کرتے ہیں تو اس کا ذکر صبح و شام ہماری زبان پر رہتا ہے ، بار بار ہم اس کو دہراتے رہتے ہیں ، اس مطلب کو ثابت کرنے کے لئے دلائل و براہین قائم کرنے یامثالیں دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کوہر شخص اپنے اندر محسوس کر سکتا ہے،لیکن قہراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم خدا سے محبت کرتے ہیں تو اپنی زندگی میں اس کے ذکر کو کتنی جگہ دیتے ہیں ؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ تمام اذکار سے زیادہ ہماری زبان پر اسی کا ذکر ہو بلکہ صرف اور صرف اسی کا ذکر ہو کیونکہ حقیقی محبت کی حقدار صرف اسی کی ذات اقدس ہے ،مزید بر آن یہ کہ آیا ت و روایات بھی ذکر خدا کی تاکید سے بھری پڑی ہیں اور اس کے آثار و فوائد اور برکات بھی مفصل طور پر بیان کر دئے گئے ہیں ،قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے ۔الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّـهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ( رعد ۔ 28 )یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دُلوں کو یادُ خدا سے اطمینان حاصل ہوتا ہے اور آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان یادُ خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے ۔یا دوسری جگہ پر ارشاد ہوتا ہےفَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ(بقرہ ۔ 152)اب تم ہم کو یاد کرو تاکہ ہم تمہیں یاد رکھیں اور ہمارا شکریہ ادا کرو اور کفرانِ نعمت نہ کرواسی طرح کافی آیات ہیں۔مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام دعائے کمیل میں ارشاد فرماتے ہیں : أن تَجْعَلَ أَو قاتی مِن اللیل والنھار بذکرک معمورۃ ۔ خدایا ! تو میرے دن اور رات کو اپنے ذکر سے معمور و منور فرما۔اسی طرح مولائے متقیان وقت آخر امام حسن علیہ السلام سے وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : یا بُنَیَّ کُن اللہ َ ذاکراً علیٰ کُلِّ حال (بحار الانوار ج 90 ۔ ص 152)اے میرے فرزند ہر حال میں خدا کا ذکر کرتے رہو ۔
تو معلوم ہوا کہ ذکر خدا ایک اہم مسئلہ ہے جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔اس باب میں کہ تسبیح کی کتنی اقسام ہیں زبانِ حال و زبان قال کے ذریعے سے تسبیح ، تسبیح حقیقی اور صوری میں کیا فرق ہے ؟ قرآن میں تسبیح کرنے کے کونسے وقت ذکر ہوئے ہیں ؟ کون کون سے ذکر تسبیح کے عنوان سے ذکر ہوئے ہیں یہ سارے مطالب اس مقالے کی حد سے زیادہ ہیں انشاء اللہ اس پر ایک اور مقالہ لکھوں گا من اللہ التوفیق ۔یہاں مختصر طور پر بیان کریں گے اس ذات بابرکات کا ذکر کیسے کیا جائے ؟ الفاظ کہاں سے لائے جائیں ؟ کون سے کلمات ہوں جو اس کی شان اقدس اور بارگاہ پر عظمت کے مطابق ہوں اور بر ترین و بالا ترین کلمات شمار کئے جاتے ہوں ۔ جب ہم روایات کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں تو ہمیں مختلف چیزیں نظر آتی ہیں ۔ اگر تمام روایات کی کلی طور پر تقسیم بندی کی جائے تو یہ روایتیں چند حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں ۔ جن کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے ۔( تفصیل سے روایات دیکھنے کے لئے حوالے کی طرف رجوع کریں )(1)بعض روایات وہ ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ تسبیحات اربعہ ٫٫ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر بہترین ذکر ہے(2)بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ : لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم بہترین و بالا ترین ذکر ہے ۔(3)بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ : لا الہ الا اللہ بہترین اور افضل ترین ذکر ہے ۔)4(بعض روایات دلالت کرتی ہیں کہ صرف الحمد للہ بہترین اور افضل ترین ذکر ہے ۔(5)بعض روایات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکبر بہترین ذکر ہے ۔(6)بعض روایات دلالت کرتی ہیں کہ محمد ؐ وآل محمد ؑ پر صلوات بھیجنا بہترین ذکر ہے ۔(7)بعض روایات دلالت کرتی ہیں کہ تسبیح حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا بہترین اور افضل ترین ذکر ہے(ان تمام روایات کے مطالعہ کے لئے کتاب بحار الانوار ج 90 باب ذکر اللہ تعالیٰ ، صفحہ 147 یا جلد 82 صفحہ 329 کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے )روایات کے مطالعہ سے اتنا بہر حال واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تمام اذکار اپنی اپنی جگہ ایک اہمیت اور عظمت کے حامل ہیں اور ان کا ورد فضیلت سے خالی نہیں ہے لیکن تسبیح حضرت فاطمہ زہراء ؐ اس لئے اپنے اندر عظمت کا پہلو رکھتی ہے کیونکہ یہ نبی اکرم ؐ کی لخت جگر ، سیدہ نساء عالمین سے منسوب ہے اور خود آپ ؐ نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کویہ ذکر تعلیم فرمایا تھا جس پر آپ ساری عمر مداوت فرماتی رہیں ۔اس واقعہ کو علما نے اس طرح نقل کیا ہے ۔شیخ صدوق قدس سر کتاب علل اشرایع میں نقل کرتے ہیں کہ : عن علي صلوات الله عليه أنه قال لرجل من بني سعد: ألا احدثك عني وعن فاطمة ؟ إنها كانت عندي وكانت من أحب أهله إليه، وإنها استقت بالقربة حتى أثر في صدرها وطحنت بالرحى حتى مجلت يداها، وكسحت البيت حتى اغبرت ثيابها، وأوقدت النار تحت القدر حتى دكنت ثيابها، فأصابها من ذلك ضرر شديد، فقلت لها: لو أتيت أباك فسألتيه خادما يكفيك حرما أنت فيه من هذا العمل ۔ فأتت النبي صلى الله عليه وآله فوجدت عنده حداثا فاستحت فانصرفت، قال: فعلم النبي صلى الله عليه وآله أنها جاءت لحاجة، قال: فغدا علينا ونحن في لفاعنا، فقال: السلام عليكم، فسكتنا واستحيينا لمكاننا، ثم قال: السلام عليكم فسكتنا، ثم قال: السلام عليكم فخشينا إن لم نرد عليه أن ينصرف، وقد كان يفعل ذلك يؤسلم ثلاثا فان اذن له وإلا انصرف فقلت: وعليك السلام يا رسول الله صلى الله عليه وآله ادخل. فلم يعد أن جلس عند رؤوسنا، فقال: يا فاطمة ما كانت حاجتك أمس عند محمد، قال: فخشيت إن لم تجبه أن يقوم قال: فأخرجت رأسي فقلت: أنا والله اخبرك يا رسول الله صلى الله عليه وآله إنها استقت بالقربة حتى أثر في صدرها، وجرت بالرحا حتى مجلت يداها وكسحت البيت حتى اغبرت ثيابها، وأوقدت تحت القدر حتى دكنت ثيابها فقلت لها: لو أتيت أباك فسألتيه خادما يكفيك حرما أنت فيه من هذا العمل. قال صلى الله عليه وآله: أفلا اعلمكما ما هو خير لكما من الخادم ؟ إذا أخذتما منامكما فسبحا ثلاثا وثلاثين، واحمدا ثلاثا وثلاثين، وكبرا أربعا وثلاثين، قال: فأخرجت عليها السلام رأسها فقالت: رضيت عن الله ورسوله، رضيت عن الله ورسوله، رضيت عن الله ورسوله (علل الشرايع ج 2 ص 54 – 55 ، من لا یحضره الفقیه، ج1، ص 211، ح 32، چار جلدی ، بحارالانوار، ج 82، ص 329)امیر المومنین علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ انہوں نے ’’ بنی سعد ‘‘ کے ایک شخص سے فرمایا : کیا تم چاہتے ہو میں اپنے اور فاطمہ ( سلام اللہ علیہما ) کے بارے میں تم کو بتائوں ؟ حضرت فاطمه سلام اللہ علیہا میرے گھر میں تھیں اور انہوں نے پانی کی مشک میں اتنا پانی بھر ا جو مشک کا نشان ان کے بدن پر ثبت ہوگئے اور( گندم کو پیسنے والی ) چکی ( آسیاب ) کو اتنا چلایا کہ ان کے ہاتھ زخمی ہوگئے ، گھر میں اتنا جھاڑو دیا جو ان کے کپڑے خاک و مٹی زدہ ہوگئے ، اور چولہے پر آگ کے اثر سے ان کا لباس سیاہ ہوگیا ۔ میں ( علی ) نے فاطمہ ( سلام اللہ علیہا ) سے کہا کہ : کاش آپ اپنے بابا کے پاس جاتیں اور ان سے ایک نوکر کی درخواست کرتیں تاکہ وہ خادمہ یہ سارے کام انجام دیتی ۔جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے پاس آئیں تو اس وقت پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کچھ افراد کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے ، جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا شرم و حیا کی وجہ سے اپنے بابا کو کچھ کھ نہ سکیں اور گھر واپس آگئیں ۔رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے آنے سے سمجھ گئے کہ ان کو کوئی کام تھا اسی وجہ سے دوسرے دن وہ ہمارے گھر تشریف لائے اور دروازے پر آ کر کھا السلام علیکم : ہم شرم سے چپ رہے ، کچھ دیر بعد پھر انہوں نے کھا السلام علیکم : ہم حیا کی وجہ سے چپ رہے جب انہوں نے تیسری مرتبہ کھا السلام علیکم تو ہم ڈر گئے کہ کہیں وہ واپس چلے نہ جائیں کیونکہ وہ جب کسی کہ پاس جاتے تھے تو دروازے پرتین 3 مرتبہ سلام کرتے تھے اگر جواب نہیں ملتا تھا تو واپس چلے جاتے تھے تو میں نے جواب دیا اور کہا : وعلیک السلام یا رسول الله! آجائیں ۔آن حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ تشریف لے کر آئے اور کھا بیٹی کل آپ میرے پاس آئیں تھیں کوئی کام تھا ؟جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے شرم و حیا کی وجہ سے کوئی جواب نہ دیا تو میں نے کھا کہ یا رسول اللہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ کیوں آئی تھیں : انہوں نے پانی کی مشک میں اتنا پانی بھر ا جو اس مشک کا نشان ان کے بدن پر ثبت ہوگئے تھے اور( گندم کو پیسنے والی ) چکی ( آسیاب ) کو اتنا چلایا جو ان کے ہاتھ زخمی ہوگئے ، گھر میں اتنا جھاڑو دیا جو ان کے کپڑے خاک و مٹی زدہ ہوگئے ، اور چولہے پر آگ کے اثر سے ان کا لباس سیاہ ہوگیا تو میں ( علی ) نے فاطمہ ( سلام اللہ علیہا ) سے کہا کہ : کاش آپ اپنے بابا کے پاس جاتیں اور ان سے ایک نوکرانی کی درخواست کرتیں تاکہ وہ خادمہ یہ سارے کام انجام دیتی ۔ ( یہ بات سننے کے بعد ) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا : کیا تم نہیں چاہتے ہو کہ تم کو ایسا عمل بتائوں جو خادم و نوکر سے بہتر ہو ؟جب آپ سونے کا ارادہ کریں تو 34 بار «الله اکبر»، 33 بار «الحمدللّه» و 33 بار «سبحان الله» پڑہیں ۔ تو فاطمہ سلام اللہ علیہا نے 3 تین بار فرمایا میں خدا اور اس کے رسول سے راضی ہوگئی ۔ویسے تو کتابوں میں اس تسبیح کو پڑہنے کے کئی طریقوں کا تذکرہ ملتا ہے جن کو تفصیلی طور پر بحار الانوار ج89 ، کامل الزیارات وغیرہ میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن مشہور و معروف تسبیح وہی ہے کہ جو ہم اور آپ نماز کے بعد پڑھتے ہیں اور جس کے بارے میں اوپر ذکر شدہ روایت کے علاوہ امیر المومنین حضرت علی ؑ اور امام جعفر صادق علیہما السلام سے روایت ہے کہ : تسبیح فاطمہ ھو اللہ اکبر اربع و ثلاثون مرّۃ ، سبحان اللہ ثلاث و ثلاثون مرّۃ ، و الحمد للہ ثلاث و ثلاثون مرّۃ(من لا یحضرہ الفقیہ ج١ ص 211 و ثواب الاعمال ص 196)یعنی تسبیح فاطمہ یہ ہے : 34 مرتبہ اللہ اکبر 33مرتبہ سبحان اللہ 33 مرتبہ الحمد للہ ۔اس روایت سے اگر چہ ظاہراً یہ سمجھ میں آتا ہے سبحان اللہ کو الحمد للہ پر مقدم کیا جائے لیکن سبحان اللہ کو بعد ہی میں پڑھنا چاہئے کیونکہ اکثر روایات میں وارد ہوا ہے کہ سبحان اللہ کو الحمد للہ کے بعد پڑھا جائے ۔ مثلاً جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے تسبیح فاطمہ ؐ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ : تبدأ بالتکبیر ثم التحمید ثم التسبیح یعنی پہلے اللہ اکبر کہو پھر الحمد للہ اور پھر سبحان اللہ ۔(من لا یحضرہ الفقیہ جلد 1صفحہ 211 و ثواب الاعمال ص 196)
ان تین جملوں کی کچھ وضاحت :اس تسبیح میں تین جملے ہیں اللہ اکبر ، الحمد للہ ، سبحان اللہ ان کی کچھ تشریح عرض کرتے ہیں کہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک خادمہ کے بدلے میں اپنی دختر نیک اختر کو یہ عمل دیا ہے اور اس عمل کو رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ نے نوکرسے زیادہ بہتر قرار دیا ہے یہ ایک عظیم امر ہے اس پر سوچا جائے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ اپنی اکلوتی بیٹی کی درخواست کے بدلے میں کیا دے رہے ہیں اور کیا دے سکتے تھے۔اس تسبیح کا پہلا ذکر ’’ اللہ اکبر ‘‘ ہے اللہ اکبر کہنے سے انسان اپنی نہایت ہی عاجزی اور ناتوانی کا اعتراف کرتا ہے ۔ امام خمینی ؒ اپنی کتاب شرح چہل حدیث ( اربعین حدیث ) میں ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ : جمیع بن عُمیر کہتا ہے : میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھا امام علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا : «الله اکبر» کی کیا معنی ہے ؟ تو میں نے کھا مولا یعنی خداوند ہر چیز سے بڑا ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : اس معنی کے مطابق تم نے خدا کو ایک حد میں تصور کیا ہے اور اس کے بعد اس کا دوسری چیزوں کے ساتھ مقایسہ و قیاس کر کے کھا ہے کہ خدا ان سے بڑا ہے ، میں نے کھا مولا تو اس اللہ اکبر کی معنی کیا ہے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا :اللہ اکبر کی معنی ہے اللہ اکبرُ اَن یُوصَفَ خدا اس ہر وصف و تعریف سے بڑا ہے ( یعنی جو صفات خدا کی بیان کی جائیں خداوند متعال کی ذات بابرکات اس سے بڑی ہے )(شرح چهل حدیث (اربعین حدیث) امام خمینی، ص656)اس تسبیح کا دوسرا ذکر ’’ الحمد للہ ‘‘ ہے ، انسان جب اپنی انکساری و عاجزی کا درگاہ خداوندی میں اظہار کرکےالحمدلله کہتا ہے تو اس جملے کے ذریعے سے دراصل شکر خدا کو بجا لاتا ہے ۔امام خمینی قدس سرہ باب حمد میں فرماتے ہیں : خداوند متعال کی حمد اس کے شکر کے برابر ہے کیونکہ بہت ساری روایات میں وارد ہوا ہے کہ جو الحمد للہ کہتا ہے اس نے شکر خدا کو انجام دیا ہے ۔حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر نعمت کا گرچہ وہ ( نعمت) کتنی بھی بڑی کیوں نہ ہو شکر ادا کرنے کے لئے خداوند کی حمد کیا کرو اور کمال شکر یہ ہے کہ تم الحمد للہ ربّ العالمین کہو۔دوسری حدیث میں حماد بن عثمان کہتا ہے کہ : امام صادق علیہ السلام مسجد سے باہر آئے درحالنکہ ان کی سواری گم ہوگئی تھی ، امام علیہ السلام فرما رہے تھے : اگر خداوند نے میری سواری کو مجھے واپس دلوایا تو میں اس کا شکر بجا لائوں گا جیسے اس کے شکر ادا کرنے کا حق ہے ، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ امام علیہ السلام کی سواری مل گئی تو امام علیہ السلام نے فرمایا : الحمد للہ ، کہنے والے نے کہا کہ : میں آپ پر فدا جائوں آپ نے تو فرمایا تھا کہ میں خدا کا شکر بجا لائوں گا ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا : کیا تم نے نہیں سنا میں نے کہا : الحمد للہاس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوند متعال کی حمد کرنا ہی اس کا زبان کے ذریعے سے شکر بجا لانا ہے ۔ (اسرار و آثار تسبیح حضرت زهرا(س)، ص 48)اس تسبیح کا تیسرا ذکر ’’ سبحان اللہ ‘‘ ہے امام خمینی ؒنقل فرماتے ہیں ایک شخص نے امیرالمومنین علی علیہ السلام سے سوال کیا کہ مولا ’’ سبحان اللہ ‘‘ کی معنی کیا ہے ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: سبحان اللہ یعنی خداوند متعال کے بلند مقام و عظمت کے سامنے تعظیم بجا لاکر اس کو ان صفات سے بے نیاز و منزہ جاننا جو مشرکین اس کے لئے بیان کرتے ہیں ، جب کوئی اس جملے کو اپنی زبان پر جاری کرتا ہے تو سب ملائکہ خداوند متعال سے اس پر رحمت نازل کرنےکی دعا کرتے ہیں ۔(شرح چهل حدیث، امام خمینی، ص 349)
عظمت تسبیح حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی دختر مصداق کوثر جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو یہ تسبیح عنایت کی تو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے دھاگے کے ذریعے سے ایک تسبیح بنائی اور یہ ذکر پڑہا کرتی تھیں اور جب سید الشھدا حمزہ بن عبد المطلب شہید ہوئے تو ان کی قبر سے مٹی اٹھا کر انہوں نے دانے بنا کر ایک دھاگے میں ڈال کر تسبیح بنائی ، اس کے بعد جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو ان کی قبر اطہر سے مٹی اٹھا کر تسبیح بنائی جاتی ہے اس سلسلے میں امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے منقول ایک روایت نقل کرتا ہوں کہ : كتب الحميري إلى القائم عليه السلام يسأله هل يجوز أن يسبح الرجل بطين القبر ؟ وهل فيه فضل ؟ فأجاب عليه السلام يسبح به فما من شئ من التسبيح أفضل منه، ومن فضله أن الرجل ينسى التسبيح ويدير السبحة فيكتب له التسبيح حمیری نے امام زمان عج کو خط لکھا اور سوال کیا کہ کیا امام حسین علیہ السلام کی قبر سے مٹی اٹھا کر اس سے تسبیح بنانا جائز ہے ؟ اور کیا اس تسبیح سے ذکر پڑہنے کی کوئی فضیلت ہے ؟ تو امام علیہ السلام نے جواب دیا کہ کسی اورچیز سے بنائی ہوئی چیز سے تسبیح کرنا امام حسین علیہ السلام کی قبر کی مٹی سے بنائی ہوئی تسبیح سے افضل نہیں ہوسکتی ، اور اس مٹی سے بنی ہوئی تسبیح کی فضیلتوں میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ جب کوئی شخص تسبیح پڑہتے ہوئے بھول جائے اور وہ تسبیح اس کے ہاتھ میں ہو تو ( جب تک ہاتھ میں ہے ) اس کو تسبیح کا ثواب ملے گا ۔( بحار الانوار جلد 82 صفحہ 327 باب تسبيح فاطمة صلوات الله عليها وفضله وأحكامه )
* قال الصادق عليه السلام: السبحة التي من قبر الحسين عليه السلام تسبح بيد الرجل من غير أن يسبح امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں وہ تسبیح جو امام حسین علیہ السلام کی قبر کی مٹی کی بنی ہوئی ہووہ جس کے ہاتھ میں ہو اس میں ذکر کرتی ہے چاہے وہ شخص خود ذکر نا پڑہ رہا ہو
(مكارم الاخلاق ص 326)
* روی أن الحور العين إذا أبصرن بواحد من الاملاك يهبط إلى الارض لامر ما يستهدين منه السبح والتراب من طين قبر الحسين عليه السلام : روایت ہوئی ہے کہ جب کبھی جنت کی حوریں دیکھتی ہیں کہ کوئی فرشتہ کسی کام سے زمین پر جاتا ہے تو وہ ان کو قبر امام حسین علیہ السلام کی مٹی سے بنی ہوئی تسبیح کی فرمائش کرتی ہیں ۔(مكارم الاخلاق ص 326)
* عن الصادق عليه السلام أنه سئل عن قول الله عزوجل (اذكروا الله ذكرا كثيرا) ما هذا الذكر الكثير ؟ قال: من سبح تسبيح فاطمة عليها السلام فقد ذكر الله الذكر الكثير: امام صادق علیہ السلام اس آیت یا أَیهَا الذینَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللهَ ذِکْراً کَثیرا : ایمان والواللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا کرو (احزاب ، آیه 41) کی تفسیر پوچھی گئی کہ ذکر کثیر سے کیا مراد ہے ؟ تو امام علیہ السلام فرماتے ہیں : جو کوئی تسبیح جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو پڑہے تو اس نے خدا کا ذکر کثیر کیا ہے
(بحار الانوار جلد 82 صفحہ 331 باب تسبيح فاطمة صلوات الله عليها وفضله وأحكامه )
* الحسن بن علي العلوي يقول سمعت على بن محمد بن علي بن موسى الرضا عليهم السلام يقول لنا أهل البيت عند نومنا عشر خصال الطهارة وتوسد اليمين وتسبيح الله ثلثا وثلثين وتحميده ثلثا و ثلثين وتكبيره أربعا وثلثين ونستقبل القبلة بوجوهنا ونقرء فاتحة الكتاب وآية الكرسي و... حسن بن علی علوی امام علی نقی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ امام علیہ السلام فرما رہے تھے کہ :ہم اہل بیت علیہم السلام میں رات کو سوتے وقت دس 10 خصلتیں ہیں : ایک وضو کر کے سونا ، دائیں طرف سونا ( قبلہ مونھ ہوکر ) ، اور تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا یعنی 34 مرتبہ اللہ اکبر ، 33 مرتبہ الحمد للہ ، 33 مرتبہ سبحان اللہ پڑہنا ، اور سورہ فاتحہ اور آیۃ الکرسی پڑہنا اور . . .(فلاح السائل - السيد ابن طاووس - صفحہ 280)
* عن أبي عبد الله عليه السلام قال: من بات على تسبيح فاطمة كان من الذاكرين الله كثيرا والذاكرات ، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : جو شخص سوتے وقت تسبیح جناب زہراء سلام اللہ علیہا کو پڑہ کر سوئے تو وہ خدا کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرنے والوں میں قرار پاتا ہے(مجمع البيان ج 8 ص 358 سورہ احزاب کی آیت: 35)
آثار و فوائد تسبیح زہراء سلام اللہ علیہا
ہماری اس عظیم ذکر سے غفلت یا تغافل کا سبب خود اس کے فضائل و فوائد سے نا واقف و جاہل ہونا بھی ہے ۔ اگر ہم ان اسرار و رموز سے واقف ہو جائیں جو ان الفاظ کے دامن میں چھپا دئے گئے ہیں تو ہم کسی حد تک خواب غفلت سے بیدار ہو کر اپنی زندگی کو ان جواہرات سے سنوار سکتے ہیں ۔ ذکر تسبیح حضرت فاطمہ ؐ کے لئے بہت سے فوائد ذکر ہوئے ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں ۔1 - گناہوں کی بخشش ، شیطان سے دوری ، رضائے الہی کا حصول:عن الصادق عليه السلام قال: من سبح تسبیح فاطمه الزهراء(س) قبل ان یثنى رجلیه من صلاة الفریضه، غفر الله له : امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو کوئی شخص واجب نمازوں کے بعد جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تسبیح کو پڑہے تو اس سے پہلے کہ وہ اپنے دائیں پیر کو بائیں پیر سے اٹھائے (قبلہ سے منحرف ہونے سے قبل ) خداوند اس کے سب گناہ معاف کر دیتا ہے ۔(فلاح السائل ، السيد ابن طاووس ص 165)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہمَن سبَّح َ تسبیحَ الزھراء (س) ثم استغفر غفر لہ و ھی مائۃ با للمان والف فی المیزان و تُطردُ الشیطان و تُر ضِی الرحمن ۔جو بھی تسبیح حضرت زہرا علیہا السلام کو پڑہ کر استغفار کریگا خدا اس کے گناہوں کو بخش دے گا ۔ اس تسبیح میں ظاہراً سو 100ذکر ادا ہوتے ہیں لیکن انسان کے نامہ اعمال کو ہزار گناوزنی بنا دیتا ہے ۔ اور ساتھ ہی شیطان کو دور بھگا دیتی ہے اور رضائے احمن کو جلب کرتی ہے(ثواب الأعمال و عقاب الأعمال ص 148)
یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ صرف تسبیح بخشش کا ذریعہ بنتی ہے اور کسی دیگر امر کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب کہ دوسری روایت سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ تسبیح کے ساتھ ساتھ خود انسان کا استغفار کرنا بھی ضروری ہے ’’ ثم استغفر غفر لہ ‘‘ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تسبیح حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام انسان کے قلب میں احساس استغفار پیدا کرتی ہے اور جب دل میں ایک مخصوص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ بندہ گناہوں کی تکرار نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے تو خدا بھی اسے معاف کر دیتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اس مسئلہ کو صاف صاف بیان کر دیا گیا ہے ۔فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّـهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(مائدہ / 39)پھر ظلم کے بعد جو شخص توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرے تو خدا اس کی توبہ قبول کریگا کہ اللہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(انعام / 54)اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو ان سے کہئے السلام علیکم ... تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم قرر دے لی ہے کہ تم میں جو بھی ازروئے جہالت برائی کرے گا اور اس کے بعد توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلے گا تو خدا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہےإِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(نور / 5)اور میں بہت زیادہ بخشنے والا ہوں اس شخص کے لئے جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے پھر راہ ہدایت پر ثابت قدم رہے ۔ان آیات میں غور کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ گناہوں کی بخشش کے لئے تو بہ کے ساتھ اعمال صالحہ کی پابندی اور حتی المقدور گناہوں کے تکرار سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔اور اس حدیث سے یہ بھی بلکل واضح ہوتا ہے کہ انسانیت و ایمان کا ازلی دشمن شیطان پر یہ تسبیح کس قدر سخت و اذیت ناک ہے کہ اس کے پڑہنے والے کے قریب بھی نہیں آتا اور اس سے دور ہوتا ہے ۔
2 - جنت کا واجب ہوجانا :
عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سمعته يقول من سبح تسبيح فاطمة في دبر المكتوبة من قبل أن يبسط رجليه أوجب الله له الجنة ، امام صادق علیہ السلام سے نقل ہے کہ راوی کھتا ہے کہ میں نے سنا کہ امام علیہ السلام فرما رہے تھے جو کوئی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کہ تسبیح کو واجب نماز کے بعد پڑہے تو اس سے پہلے کہ وہ اپنے پاوں کو کھولے خداوند اس پرجنت واجب کر دیتا ہے(فلاح السائل ، السيد ابن طاووس ص 165 و بحار الانوار جلد 82 صفحہ 327 باب تسبيح فاطمة صلوات الله عليها وفضله وأحكامه )
یہاں سے معلوم ہو جاتا ہے کہ تسبیح حضرت فاطمہ ؐ کتنا پر عظمت اور با فضیلت ذکر ہے اور یقیناً اگر اس سے زیادہ فضیلت والا کوئی ذکر ہوتا تو پیغمبر اکرم ؐ اپنی بیٹی کو وہی تعلیم فرماتے ۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :ما عُبد اللہ ُ بشیئ افضل من تسبیح الزھراء ( س) لو کان شیء افضل منہ لَنَخلہ رسول اللہ فاطمہ : یعنی تسبیح فاطمہ زہراء علیہا السلام سے بہتر کسی اور طریقے سے خدا کی عبادت نہیں کی گئی بے شک اگر کوئی چیز اس سے بھی زیادہ افضل ہوتی تو رسول اکرم اپنی بیٹی فاطمہ کو وہی تعلیم فرماتے ۔( زندگانی حضرت زھراء ؐ ص 98)ان روایات کے بعد ذکر تسبیح حضرت فاطمہ زھراء ؐ کی عظمت و فضیلت اور دوسرے اذکار پر اس کی بر تری روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے اور اگر اس پر مداومت کر لی جائے تو انسان دنیا و آخرت کی برکتیں اور نعمتیں سمیٹ سکتا ہے ۔ اور کل قیامت میں حضرت فاطمہ ؐ کے محضر میں سر خرو ہو سکتا ہے ۔3-ایک تسبیح ایک ہزار رکعات کے برابر :
عن أبي عبد الله عليه السلام قال: تسبيح الزهراء فاطمة عليها السلام في دبر كل صلاة أحب إلى من صلاة ألف ركعة في كل يوم ، اما صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر نماز ( واجب ) کے بعد مجھے تسبیح فاطمہ سلام اللہ علیہا پڑہنا ہر روز 1000 رکعت پڑہنے سے زیادہ پسند ہے (ثواب الأعمال و عقاب الأعمال ص 149)یعنی امام علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ جو نماز تسبیح کے ساتھ پڑہی جائے وہ اس ایک ہزار رکعات سے افضل ہے جو بغیر تسبیح کے پڑہی جائیں ۔
4 - شقاوت اور بدبختی سے نجات کا ذریعہ :
ہر انسان اپنی عقل و معرفت کے حساب سے اس پر آشوب دنیا میں خوشبختی کا طالب ہے ، دوسرے الفاظ میں ہر انسان چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی سعادت اور اطمئنان کی راہ پر چلنے کے لئے کوشاں ہوتا ہے اور یہ تسبیح جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا ایک ذریعہ ہے جس سے انسان سعادت کی راہ پر چلتے ہوئے شقاوت اور بدبختی کی آفات سے بچ سکتا ہے۔عن أبی عبد الله (ع) قال لأبی هارون المکفوف: یا أبا هارون إنّا نأمر صبیاننا بتسبیح الزهراء (س) کما نأمرهم بالصلاة فالزمه فإنه لم یلزمه عبد فیشقی ، اما م صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ انہوں نے ابوھارون سے فرمایا : ای ابو ہارون ہم اپنے چھوٹے بچوں جس طرح نماز پڑہنے کا حکم دیتے ہیں اسی طرح ان کو تسبیح جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا پڑہنے کا بھی حکم دیتے ہیں ، تم بھی اس کو پڑہنے کو اپنے لئے لازم بنا دو کیونکہ جو شخص اس کو مدام پڑہتا رہے کبھی شقاوت و بدبختی میں مبتلیٰ نہیں ہوسکتا ۔( ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ترجمه انصارى محلاتى، ص 315)
اس روایت میں آپ ملاحضہ کر سکتے ہیں کہ جیسے ایک واجب فعل ( نماز ) کا امام علیہ السلام اپنی اولاد و خاندان کے بچوں کو حکم دیتے ہیں اسی طرح وہ تسبیح جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا بھی حکم دیتے ہیں، یہ حدیث اس تسبیح کی عظمت کو معراج تک لے جاتی ہے ، اور ہمیں بھی اپنے بچوں کو اس تسبیح کے پڑہنے کا حکم دینا چاہئے ۔
5 -محبوب خدا بن کر جہنم و منافقت سے نجات کا سبب :
اوپر ایک آیت کی تفسیر میں امام صادق علیہ السلام کا قول نقل کیا کہ امام علیہ السلام نے تسبیح جناب فاطمہ (س) کو خدا کا ذکر کثیر کا مصداق قرار دیا اس سے ذمیمہ کرتے ہوئے ایک حدیث رسول گرامی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں : من اکثر ذکر الله عز و جل احبه الله و من ذکر الله کثیرا کتبت له برائتان؛ برائة من النار و برائة من النفاق ، جو خدا کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرتا ہے تو خدا اس سے محبت کرنا شروع کردیتا ہے جو خدا کا زیادہ ذکر کرتا ہے خدا اس کو جہنم اور منافقت سے بچاتاہے۔(اصول کافى، ج 2، ص 499، ح 3)
6-جسمانی امراض و بالخصوص بھرے پن کا علاج :جہاں یہ تسبیح حمد خدا و شکر خدا کو بجا لانے کا ذریعہ بھی ہے ساتھ میں اوپر بیان شدہ معنوی نعمات کا وسیلہ بھی ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہری امراض و جسمانی مشکلات کو دور کرنے کا سبب بھی ہے اس سلسلے میں دو 2 روایتوں کو ذکر کرتے ہیں
(1)قال بعض أصحاب أبي عبد الله عليه السلام: شكوت إليه ثقلا في اذني، فقال عليه السلام: عليك بتسبيح فاطمة عليها السلام ، امام صادق علیہ السلام کے ایک صحابی نے امام علیہ السلام سے اپنے بھرے پن ( کم شنوائی ) کی شکایت کی تو امام علیہ السلام نے اس کو فرمایا : تسبیح فاطمہ (س) پڑہا کرو ۔
(2)دخل رجل على أبي عبد الله وكلمه فلم يسمع كلام أبي عبد الله عليه السلام وشكى إليه ثقلا في اذنيه، فقال له: ما يمنعك ؟ وأين أنت من تسبيح فاطمة عليها السلام قال: جعلت فداك، وما تسبيح فاطمة ؟ فقال: تكبر الله أربعا وثلاثين وتحمد الله ثلاثا وثلاثين وتسبح الله ثلاثا وثلاثين تمام المائة، قال: فما فعلت ذلك إلا يسيرا حتى أذهب عني ما كنت أجده ، امام صادق علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا امام علیہ السلام نے اس سے بات کی تو وہ امام علیہ السلام کے کلام کو نہ سن سکا اور امام علیہ السلام سے اپنے بھرے پن کی شکایت کی ، تو امام علیہ السلام نے اس کو فرمایا : تمہیں کس نےمنع کیا ہے ، تم کیوں تسبیح جناب فاطمہ (س) سے غافل ہو ؟ تو اس شخص نے کہا : میں آپ پر قربان جائوں، یہ تسبیح فاطمہ (س) کیا ہے ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا : 34 مرتبہ اللہ اکبر کہنا ، 33 مرتبہ الحمد للہ ، 33 مرتبہ سبحان اللہ کا پڑہنا ( تسبیح جناب فاطمہ (س) کہلاتا ہے ) وہ شخص کہتا ہے میں نے تھوڑا عرصہ ہی اس عمل کو انجام دیا تھا کہ میرا بھرا پن ختم ہوگیا ۔(بحار الانوار جلد 82 صفحہ 332 باب تسبيح فاطمة صلوات الله عليها وفضله وأحكامه )
شرائط تسبیح جناب سیدہ علیہا السلام
علما کرام نے اس تسبیح کے اسرار و رموز و اثر کو محسوس کرنے کے لئے حد اقل تین 3 شرطیں بیان کی ہیں1- تسبیح کرتے وقت حضور قلب و خشوع و خضوع :ہر عمل کی مقبولیت میں عموما اور تسبیح جناب سیدہ علیہا السلام میں خصوصا حضور قلب و خشوع و خضوع کا بڑا دخل ہے ، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس بہترین تسبیح کو نماز کے بعد یا تو پڑہتے ہی نہیں ہیں یا فقط فارملٹی پوری کرنے کے لئے جلدی جلدی پڑہ کے ختم کردیتے ہیں ۔2 - نماز کے فوراََ بعد پڑہا جانا :ہر واجب نماز کے فوراََ بعد یعنی جیسے ہی آخری سلام کے بعد تکبیر کہی جاتی ہے اس تسبیح کو پڑہا جائے ۔3 -موالات :یعنی تسبیح کو پڑہتے وقت بغیر کسی دوسرے کام یا بات کرنے کے تینوں اذکار کو پی در پی پڑہا جائے ۔ہم سب شہزادی کونین کو وسیلہ قرار دیتے ہوئے بارگاہ خدا وندی میں دعا کرتے ہیں کہ ہماری زندگی کو تسبیح حضرت فاطمہ الزہرا علیہا السلام کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر محبوب افکار کے سہارے معمور و منور فرما آمین یا رب العالمین ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)


