علامہ شیخ محمد باقر مجلسی علیہ الرحمہ بحار میں نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک سایل امام حسین علیہ السلام کے پاس مدینہ ایا. اور اپنی حاجت بیان کی اور کہا
یابن رسول اللہ.ص ! " مجہ پر ایک کامل دیت واجب ہے جسکی ادائیگی میرے بس سے باہر ہے. میں نے سوچا کہ کسی کریم شخص سے اپنی حاجت کہوں پس آپ اہل بیت نبوت سے بڑہ کر اور بہلا کون کریم ہوگا جن سے اپنی حاجت طلب کروں ؟
سایل کی بات سن کر ابا عبد اللہ.( میری جان قربان ہو) فرمانے لگے
" اے عرب بہایی ! ٹہیک ہے .میں تم سے تین سوالات کرتا ہوں اگر تم نے پہلے سوال کا درست جواب دیا تو ایک تہایی مال دونگا اور اگر تم نے دوسرے سوال کا صحیح جواب دیا تو تمهيں دو تہایی مال ملے گا اور اگر تم نے تیسرے سوال کا بہی جواب دے دیا تو تمہیں پورے کا پورا مال دیدونگا "
یہ سنکر سایل بولا
" یابن رسول اللہ.ص. بہلا کیاں اپ جیسا بہی مجہ جیسے سوال پوچہیں گے جبکہ اپ اشرف ترین خانوادے کے فرد ہیں "
یہ سنکر مولا واقا ( میری جان قربان ہو) نے فرمایا
" میں نے اپنے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا ہے کہ ( نیکی معرفت کے مطابق کی جاتی ہے ) "
یہ سنا تو سایل نے کہا " اپ سوال کیجیے اگر میں جواب نہ دے سکا تو اپ سے سیکہ لونگا "
پہر اپنی زبان پر کلمہ (ولا حول ولا قوہ الا باللہ ) جاری کیا
(عربوں میں سخت تعجب و حیرت یا مصیبت و غم و غصے کے موارد پر کلمہ " لاحول " حسب مناسبت دہرایا جاتا ہے البتہ یہاں مورد تعجب و حیرت و استعجاب کا ہے)
پس مولا نے اس سے پہلا سوال کیا کہ بتاو کہ " افضل ترین عمل کیا ہے؟ "
اس نے جواب دیا " اللہ پر ایمان "
پہر اپ نے دریافت فرمایا
" ہلاکت سے نجات کیسے ممکن ہے ؟"
اس نے جواب دیا
" اللہ عزوجل پر مکمل یقین سے "
پہر اپ نے پوچہا
" انسان کی زینت کیا ہے ؟
" اس نے جواب دیا" علم کیساتہ حلم ہو " فرمایا " اور اگر ایسا نہ ہو تو ؟ "
تو اس نے جواب دیا " پہر دولت ہو جس کے ساتہ سخاوت ہو "
تو اپ نے فرمایا" اگر یہ بہی نہ ہو "
تو اسنے جواب دیا کہ
" پہر فقر ہی رہ جاتا ہے لیکن اس کے ساتہ صبر ہو "
اپ نے فرمایا " اگر یہ بہی نہ ہو یعنی فقر بہی ہو مگر صبر بہی نہ ہو "
تو اس نے فورا کہا
" پہر تو ایسا شخص اس لایق ہے کہ اسمانی بجلی اس پر گرے اور اسے جلاکر راکہ کردے "
اللہ اکبر ! یہ جواب سنکر حسین ابن علی علیہ السلام ( روحی فداہ ) مسکرادیے اور ایک گہڑے کیطرف اشارہ کیا جس میں ہزار دینار رکہے تہے. بعد ازآں اسے اپنی انگوٹہی بہی عطا کی جسکا صرف نگینہ. دوسو درہم کا تہا اور فرمایا
" یہ سونا تم اپنے قرض خواہوں یعنی دیت طلب کرنے والوں کو دے دینا اور انگوٹہی سے اپنے زیر کفالت افراد کے اخراجات پوری کرنا"
پس سایل اپ کے گہر سے یہ کہتے ہویے نکلا
( اللہ اعلم حیث یجعل رسالته ) " اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کس گہر میں قرار دے "
(.مقتل الحسين الخوارزمي 1/156
وبحار الانوار للمجلسي ره)
دوستو ! اس قصے میں کچہ دروس ہیں
1- علم حاصل کرنا چاہیے
2- عطا بقدر علم و معرفت ہونا چاہیے
3- سايل كي عزت نفس کا خیال رکہنا چاہیے
کیونکہ ابا عبد الله .ع. چاہتے تو اس سايل كو یہ رقم ایسے بہی دے سکتے تہے لیکن اپ نے سوال و جواب کو عطاء کی شرط قرار دیکر اسے یہ رقم انعام کی صورت میں عطا کی.اسطرح اسکی عزت نفس بہی بحال رہی.
4-اور اس قصے سے یہ بہی واضح ہوا کہ انسان ان تین حالات میں سے کسی بہی ایک حالت میں ضرور مبتلا ہوگا پس اسے چاہیے کہ اپنی زینت کا خیال رکہے اور اسے خراب نہ ہونے دے
ان شا اللہ اس سلسلے کا دوسرا قصه آیندہ کی پوسٹ میں ضبط تحریر میں لایی جایے گی .
محتاج دعا
Courtesy:
أبو صلاح الجعفري
السلام عليك يا ابا عبدالله وعلى الارواح التي حلت بفنائك عليك مني سلام الله ابدا مابقيت وبقي الليل والنهار ولا جعله الله بأخر العهد مني لزيارتكم السلام على الحسين وعلى علي بن الحسين وعلى اولاد الحسين وعلى اصحاب الحسين..
No comments:
Post a Comment